محمو د خان اچکزئی کا نواز شریف کی بگڑتی ہوئی صحت پر اظہار تشویش ،سپریم کورٹ آف پاکستان سے ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ

0 28

کو ئٹہ: پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وسابق رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی بگڑتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان سے ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میاں نواز شریف اور اس کی بیٹی مریم نواز کو بغیر کسی جرم کے جیل میں ڈال دیا گیا ہے،عدالت میاں نواز شریف کوعلاج کے لیے بیرونملک یاپاکستان کے کسی ہسپتال منتقل کرے، وزیر اعظم عمران خان کا استعفیٰ دینا کوئی بڑی بات نہیں،اگر آئین کی بالادستی،اداروں کی مداخلت بند کرنے کی گارنٹی دی جائے تو میں مولانا فضل الرحمان کا ذمہ دار ہوں اور ان کے آزادی مارچ کو بند کرنا میری ذمہ داری ہیں،آزادی مارچ کو روکنے کی صو رت میں پشتونخوامیپ کے کارکنان حکومت کو گرانے کے لیے اپنی صفوں کو درست کریں،پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیاستدانوں ،ٹیکنوکریٹس ،صحافیوں ،عدلیہ،تاجروں اور دیگر طبقات پر مشتمل گول میز کانفرنس بلائی جائے ،بلوچستان یونیورسٹی میں طالبات کو ہراساںکرنے کی معاملے کی شفاف انکوائری کے لیے معاشرے کے شریف النفس اور نیک نام لوگوں پر مشتمل فیکٹ فائنڈنگ کمیشن بنایا جائے، چئیرمین سینیٹ کا کرپشن کے خلاف بولنا کسی معجزے سے کم نہیں، ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں پشتونخوامیپ کے مرکزی سیکرٹری ڈاکٹر کلیم اللہ کاکڑ، سابق صوبائی وزرا عبدالرحیم زیارتوال،ڈاکٹر حامد اچکزئی ،قہار خان ودان ،رکن بلوچستان اسمبلی نصراللہ خان،زیرے ،حاجی عبدالرحمن بازئی ،جلیل خان دوتانی اور دیگر رہنمائوں کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،محمود خان اچکزئی نے کہا کہ سوشل میڈیا پر پارٹی میں بھگدڑ مچی ہوئی ہے اس لیے میں متنبہ کرتا ہوں کہ یہ معاملہ ختم ہونا چاہیے ورنہ اس عمل میں ملوث عناصر کے لیے پشتونخوامیپ میں کوئی جگہ نہیں ہے، سیاسی رہنمائوں کے لیے گرفتاریاں اور جیلیں کاٹنا سیاست کا حصہ ہے عوام کی ووٹوں سے منتخب پارلیمان کو تمام پالیسیوں کا مرکز ہونا چاہیے، جوڈیشل ایکٹویزم تباہی کی طرف جانے کا راستہ ہے ،موجودہ ملکی اور بین الاقوامی حالات کے پیش نظر تمام طبقات کے لوگوں پر مشتمل گول میز کانفرنس بلائی جائے جس میں تمام ادارے اور سیاسی جماعتیں بیٹھ کر ملک کو چلانے کی حکمت عملی طے کریں،محمود خان اچکزئی نے کہاکہ بلوچستان یونیورسٹی میں طالبات کو ہراساں کرنے کے معاملے پر بروقت اور بھر پور احتجاج نہ کرنے پرپشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائز یشن کے رہنمائوںسے خفگی کا اظہا رکرتے ہوئے کہاکہ میں جامعہ بلوچستان میں رونماہونے والے افسوسناک واقعہ پر مٹی ڈالنے اور اس واقعے کو دبانے نہیں دونگا، لسبیلہ سے لیکر چمن تک اورکوئٹہ سے لیکر موسی خیل تک صوبے کے تمام تعلیمی اداروں میں اس قسم کی قبیح حرکات کی مکمل انکوائری ہونی چاہیے جس کے لیے معاشرے میں اچھی شہرت کے حامل وکلا،صحافیوں ٹیکنو کریٹس پر مشتمل فیک فائنڈنگ کمیشن بنایا جائے ۔پشتونخوامیپ کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہماری جماعت مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ میں بھرپور شرکت کریگی جس کی تیاریوں کے لیے تمام اضلاع کے کارکنوں کو ہدایات جاری کردی گئیں ہے اور میں خود بھی آزادی مارچ میں حصہ لونگا۔ انہوں نے کہاکہ پارلیمان کو طاقت کا سرچشمہ اور آئین کو بالادست ہونا چاہیے جلسہ ،جلوس اور مظاہرے کرنا ہرسیاسی پارٹی کا جمہوری حق ہے ۔ پنجاب کے عوام سے گلہ ہے کہ اگر وہ اب نہیں اٹھے گے تو پھر کب میدان میں نکلیں گے، اگر آزادی مارچ کو روکنے کی کوشش کی گئی تو بلوچستان حکومت کو گرانے کے لیے پشتونخوامیپ کے کارکنان اپنی صفوں کو درست کریں دفعہ144کی خلافِ ورزیوں پر تو سینکڑوں افراد کو مارا گیا مگر آئین توڑنے والوں کو آج تک کٹہرے میں نہیں لایا گیا، جوڈیشل ایکٹیوزم بربادی کا راستہ ہے،پاکستان دنیا میں دن بدن تنہائی کی طرف جا رہا ہے اور موجودہ حکومت کی بدولت ملک مشکلات میں پھنسا ہوا ہے، محمود خان اچکزئی نے کہا کہ موجودہ حکومت کو جانا چاہیے، عمران خان میرا دوست رہا ہے اگر وہ مستعفی ہو جائیں تو کون سی بری بات ہے، سیاسی جماعتوں کو مصلحت پسندی سے کام نہیں لینا چاہیے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.