
کوئٹہ : جمعیت علما اسلام کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت عوام کو روزگار دینے میں ناکام ہوچکی ہے، بلوچستان میں روزگار کے ذرائع محدود ہونے کی وجہ سے یہاں کے عوام ملک کے دوسروں صوبوں میں جاکر محنت مزدوری کرتے ہیں ایران اور افغانستان کے ساتھ بارڈرز بند ہونے کی وجہ سے عوام دو وقت کی روٹی کے محتاج ہوچکے ہیںنا اہل اور سلیکٹیڈ حکومت فوری طورپر بارڈرز کو کھول کر لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کریں، عید کے بعد ان تمام تر مسائل کو احتجاج میں شامل کر کے سلیکٹیڈ حکومت کے خلاف بھر پور احتجاجی تحریک شروع کیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعیت علما اسلام کے صوبائی دفتر میں جماعت کے عہدیداروں اور کارکنوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب سے بلوچستان میں جام اور ان کے اتحادیوں کی حکومت کو مسلط کیا گیا ہے عوام کے مسائل میں اضافہ ہوتا جارہا ہے،ایک طرف بجلی کی لوڈشیڈنگ سے فصلات اور باغات تباہ ہیں جس کی وجہ سے زمیندار نان شبینہ کا محتاج ہے تو دوسری طرف چھوٹے کاروبار کرنے والوں پر بھی کاروبار کے دروازے بند کیئے جارہے ہیںحکومت ہوش کے ناخن لیکر عوام کو روزگار کے مواقع فراہم کریں تفتان اور چمن بارڈر پر ہمسایہ ممالک کے ساتھ بارڈرز کو بند کرنے کی بجائے کھول دیا جائے بارڈز بند ہونے کی وجہ سے بلوچستان کی غریب عوام سے دو وقت کی روٹی بھی چھین لی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف بلوچستان میں صنعتیں اور دیگر ذرائع روزگار نہ ہونے کے برابر ہیں،حکمران جان بوجھ کر ایسے اقدامات اٹھارہے ہیں کہ جن سے لوگ بے روزگار ہو اور اور وہ کمزور معاشی حالت کے باعث نان شبینہ کے محتاج ہو۔ انہوں نے کہاکہ کا واحد ذریعہ معاش زراعت تھاجسے بھی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے برباد کردیا اور صوبے کے باصلاحیت نوجوان دیگر ذریعہ روزگار نہ ہونے کی وجہ سے ایران اور افغانستان کے ساتھ بارڈز کے چھوٹے موٹے کاروبار سے وابستہ ہوگئے تھے مگر گزشتہ کئی مہینوں سے حکومت نے جان بوجھ کر بارڈز بند کردیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت عوام کو روزگار دینے میں ناکام ہوچکی ہے۔




