بلوچستان یونیورسٹی میں خفیہ ویڈیوز اسکینڈل کے خلاف بی این پی کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ
دالبندین: بلوچستان یونیورسٹی میں خفیہ ویڈیوز اسکینڈل کے خلاف بی این پی کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا،مظاہرین نے بلوچستان یونیورسٹی میں جنسی ہراسگی کے واقعات کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اتوار کو بلوچستان یونیورسٹی میں خفیہ ویڈیوز اسکینڈل کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام دالبندین پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، مظاہرین نے بلوچستان یونیورسٹی میں جنسی ہراسگی کے واقعات کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا. بی این پی کے زیر اہتمام بلوچستان یونیورسٹی میں جنسی ہراسگی کے خلاف دالبندین پریس کلب کے سامنے کیے جانے والے مظاہرے کی شرکا نے بلوچستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی فوری برطرفی اور خفیہ ویڈیوز اسکینڈل کے تمام حقائق سامنے لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ حقائق سامنے آنے پر بلوچستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو کڑی سزا بھی دی جائے کیونکہ ان کے زیر سرپرستی یہ سب کچھ کیا جاتا رہا اور ایسا ممکن بھی نہیں کہ ان کے علم میں لائے بغیر یہ سب کچھ کیا جائے. اس موقع پر مظاہرین نے گورنر بلوچستان اور صوبائی حکومت کے خلاف بھی شدید نعرے بازی کی. مظاہرین سے بی این پی چاغی کے ضلعی جنرل سیکرٹری ثنا اللہ بلوچ، ڈپٹی سیکرٹری احمد یار بلوچ، سابق نائب صدر اقبال بلوچ، شیردل مجاز، میر ابراہیم ریکی، محمدبخش بلوچ، مصطفی کمال ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنسی اسکینڈل حساس نوعیت کا مسئلہ ہے اسے معمولی نہ سمجھا جائے کیونکہ بلوچ معاشرے میں ایسے کسی فعل کی کوئی گنجائش نہیں. ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان یونیورسٹی تعلیمی ادارے سے زیادہ سیکیورٹی زون بن چکا ہے وہاں ایسے اسکینڈلز کا سامنے آنا تشویشناک بات ہے. انہوں نے کہا کہ بی این پی اس معاملے پر خاموش نہیں رہ سکتی جبکہ ذمہ داروں کا تعین کرکے انھیں سزائیں نہیں دی جاتی ان کے احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔