
اسلام آباد : حکومت نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب)، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) یا سیکیورٹیز ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کسی بھی غلط کام یا جرائم کیخلاف انڈپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے آزاد ہیں۔
اسی کے ساتھ ہی حکومت بینکوں سے قرضوں کی ادائیگی کی میعاد کو موجودہ دس سال سے 20 سال تک بڑھانے کے ساتھ سود کی شرح میں کٹوتی کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔
وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے بجلی تابش گوہر کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘حکومت کے ہاتھ کٹے نہیں، ہم نے اپنے ہر حق (آئی پی پیز کے ساتھ نظرثانی شدہ معاہدے میں) کا تحفظ کیا ہے، کسی بھی مجرمانہ فعل کو کوئی تحفظ نہیں ہے’ ۔ وزیر توانائی نے کہا کہ در حقیقت حکومت آئی پی پیز کو پاور ریگولیٹر کے گرمی کی شرح کے ٹیسٹوں کے احکامات کے خلاف عدالتوں سے حکم امتناعی ختم کرنے میں راضی کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر احتساب اور ریگولیٹری ادارے کسی قسم کی بے ضابطگییاں یا غلط کاروائی میں پائے جاتے ہیں اور عدالتوں میں تنازع حل ہوسکتا ہے تو وہ کارروائی کرنے میں آزاد ہوں گے۔
عمر ایوب خان نے کہا کہ آئی پی پیز کے ساتھ نظرثانی شدہ معاہدوں میں اس سے قبل کی گئی 863 ارب روپے کی بچت ڈالر کی قیمت 168 روپے ہونے پر مبنی تھی جو روپے کی قدر میں بہتری کے بعد 770 ارب روپے پر رہ گئی کیونکہ اب ڈالر کی قیمت 160 روپے ہے۔
بچت میں سے 50 فیصد صلاحیت کی ادائیگی کے حساب سے اور 50 فیصد توانائی کی لاگت میں سے ہے۔
بینکوں کے ساتھ بات چیت کے بارے میں تابش گوہر نے کہا کہ بینکوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے قرض کی ادائیگی کی میعاد کو 20 سال تک بڑھا دیں اور سود کی شرح کبور کے علاوہ 4.5 فیصد سے 3 فییصد تک کریں۔




