ایم ایل ون : فنانسنگ کی منظوری سے قبل اضافی گارنٹی نہیں مانگی : چین

بیجنگ : ترجمان چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین سی پیک منصوبے کی تکمیل کیلئے پرعزم ہیں، اس منصوبے کا مستقبل کافی روشن ہے ۔ انہوں نے ایم ایل ون ریلوے لائن منصوبے کی فنانسنگ سے قبل پاکستان سے اضافی گارنٹی مانگنے کی خبروں کی تردید کردی۔ ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لیجیان ژاؤ نے ایسی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیا جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین سی پیک کے تحت پاکستان کی مالی سپورٹ بتدریج ختم کر دے گا۔ انہوں نے کہا کووڈ 19 کے بعد سے سی پیک منصوبوں میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کسی کو فارغ نہیں کیا جائیگا، تعمیراتی کام جاری رہیں گے ۔ انہوں نے کہا سی پیک کے متعدد منصوبے مکمل یا ان کا افتتاح ہو چکا ہے ، ان منصوبوں نے عالمی وبا سے لڑنے اور معیشت کے استحکام میں پاکستان کی کافی مدد کی۔ چینی ترجمان دفتر خارجہ نے کہا سی پیک انٹرنیشنل کوآرڈنیشن اینڈ کوآپریشن ورکنگ گروپ کا دوسرا اجلاس گزشتہ جمعہ کو ہوا جس میں دونوں ملکوں نے سی پیک کے تحت تعاون کو صنعت، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی اور ذرائع معاش تک فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ سی پیک کے تحت دیگر ورکنگ گروپس کا اجلاس بھی جلد ہوگا جس کا مقصد سی پیک کی جائنٹ کمیٹی کے اجلاس کی تیاری ہوگا۔ انہوں نے کہا حالیہ عالمی معاشی بحران کے پیش نظر چین نے سی پیک سمیت روڈ اینڈ بیلٹ منصوبوں میں مجموعی طور پر سرمایہ کاری میں اضافہ کردیا ہے ، رواں سال کی پہلی تین سہ ماہیوں کے دوران روڈ اینڈ بیلٹ روٹس کے ملکوں میں براہ راست سرمایہ کاری میں لگ بھگ 30 فیصد اضافہ ہوا، چین نے اپنی استعداد میں رہتے ہوئے ان ممالک کی عالمی وبا سے نمٹنے اور معیشتیں بحال کرنے میں بھی معاونت کی۔ دنیا نیوز کے مطابق انہوں نے کہا ہم نے ایم ایل ون پشاور سے کراچی تک ریلوے لائن کی اپ گریڈیشن اور دوہری لائن کی فنانسنگ کی منظوری دینے سے پہلے پاکستان سے اضافی گارنٹیز نہیں مانگیں، اس طرح کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ یاد رہے کہ 1872 کلومیٹر طویل لائن کیلئے تقریباً 6 بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری درکار ہے ، پراجیکٹ سی پیک کے فیز ٹو کا ایک اہم حصہ ہے ۔




