دنیا کے مختلف ملکوں کے پاسپورٹ مختلف کیوں ہوتے ہیں؟

0 30

پاسپورٹ بیرون ملک سفر کے لیے لازمی دستاویز ہے جو کسی شخص کی شناخت کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ اسے عام طور پر بہت حفاظت سے ہی رکھا جاتا ہے اور اس کے صفحے صرف کبھی کبھار چند اہلکار ہی کھول کر الٹ پلٹ کر دیکھتے ہیں۔

اس کا دوہرا کام ہے۔ اول یہ کہ اس دستاویز سے حامل شخص کی شناخت ہوتی ہے اور دوسرا یہ کہ اس کا اجرا کرنے والے ملک کا بھی تعین کیا جاتا ہے۔ لیکن اکثر ہم اس پر لگی اپنی ہی تصویر سے مطمئن نہیں ہوتے اور پاسپورٹ پر بنے سنہرے نقوش سے اپنی قومیت کی پہچان ہونے کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔

اس کے باوجود پاسپورٹ ایک ایسی چیز ہے جو کہ بہت سی چیزوں کی ترجمانی کرتا ہے اور جو بین الاقومی سرحدوں کو ظاہر بھی کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہی عالمگیریت کا بھی مظہر ہے۔

روایتی طور پر پاسپورٹ جس طرح ڈیزائن کیا جاتا ہے اس میں دلچسپی کی کوئی بات نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر تائیوان کے نئے پاسپورٹ کی گہرے سبز رنگ کی جلد ہے جس پر سنہرے دائرے میں سورج کا عکس بنا ہوا ہے۔

حال ہی میں اس جزیرے کی علیحدگی پسند ‘نیو پاور پارٹی’ نے پاسپورٹ کے نئے ڈیزائن کے لیے ‘کراؤڈ سورسنگ’ کے ذریعے مقابلہ کروایا۔ اس کا ایک سیاسی زاویہ بھی تھا۔

یہ مقابلہ جولائی میں پارلیمنٹ میں ایک قرار داد کے نتیجے میں کروایا گیا تھا جس میں لفظ تائیوان کو اجاگر کیا گیا جو موجودہ سفری دستاویز پر جمہوریہ چین کے نیچے درج ہے، جس پر قانون سازوں کا کہنا ہے کہ اس سے بیرون ملک تائیوان کے شہریوں کی شناخت میں دشواری ہوتی ہے۔

پاسپورٹ کے ڈیزائن کے مقابلے کے آخری مرحلے تک پہنچنے والوں نے ایک قدم آگے جاتے ہوئے جمہوریہ چین کے الفاظ ہی اڑا دیے۔ اب انگریزی زبان میں درج تین لفظ ‘ریپبلک آف چائنہ’ اس پر موجود نہیں ہیں۔

پاسپورٹ ڈیزائن کرنے والے اپنے تخلیقی جوش و جذبے میں پاسپورٹ کے ڈیزائن میں پرندوں، تتلیوں اور چالوں کے پودوں کے عکس بنانے اور اس کو مختلف رنگوں سے آراستہ کرنے کی فکر میں رہتے ہیں لیکن ایک بنیادی سوال جو ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ آخر پاسپورٹ جس طرح کے بنائے جاتے ہیں اس طرح کے کیوں بنائے جاتے ہیں۔

پاسپورٹ ہمیشہ سے آج کی طرح کی مضوط جلد والے کتابچے کی صورت میں نہیں ہوتے تھے۔ تاریخ میں سب سے قدیم حوالہ جو پاسپورٹ کی طرح کی سفری دستاویز کا ملتا ہے وہ انجیل کی کتاب نہیمیا میں ملتا ہے۔ اس میں بیان کیا گیا کہ 450 قبل مسیح میں فارس کے ایک بادشاہ ارٹیکسرسز اول نے دریائے فرات کے پار کے حکمرانوں کو ایک پیغمبر کو اپنے علاقوں سے گزرنے کی اجازت دینے کی درخواست کی صورت میں پاسپورٹ جاری کیا تھا۔

ہم یہ نہیں جانتے کہ ان پاسپورٹوں کی کیا شکل ہوتی تھی لیکن عین ممکن ہے کہ یہ قدیم ترین پاسپورٹ جو اب تک محفوظ ہے اس ہی کی طرح کے ہوں گے۔

ایک پارچہ پر جلی اور خوبصورت تحریر جس پر انگلینڈ کے بادشاہ چارلس اول کے دستخط بھی ہوتے تھے، اور اس کو تہ کیے جانے کے بعد ہی جیب میں رکھا جا سکتا تھا۔ یہ سنہ 1636 میں سر تھامس لٹلٹن کو جاری کیا گیا تھا تاکہ ان کو یہ اجازت دی جائے کہ وہ ریاست کی سمندری حدود سے آگے سفر کر سکیں۔ ان کو اپنے ہمراہ چار نوکر، پچاس پاؤنڈ اور اپنے بکسے اور ضروری اشیا لے جانے کی اجازت دی گئی تھی۔۔

جنگ عظیم اوّل کے شروع ہو جانے کے بعد حکومتوں نے پاسپورٹ دیکھنا شروع کر دیے تاکہ دشمن ممالک کے جاسوسوں کو ملک میں داخل ہونے سے روکا جائے۔ پہلا جدید برطانوی پاسپورٹ سنہ 1915 میں جاری کیا گیا۔ یہ پاسپورٹ ایک صفحے پر مشتمل تھا جس کو کارڈ بورڈ کی ایک جلد میں تہ کر لیا جاتا تھا۔ اس پر برطانیہ کا شاہی نشان بنا ہوا تھا۔ یہ شیر اور ایک سینگ والا گھوڑا جو بالترتیب انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ کا قومی نشان ہیں آج بھی پاسپورٹ پر موجود ہیں ۔

اندر سے یہ مختلف ہے۔ سنہ 1915 میں جاری ہونے والے پاسپورٹ میں تصویر لازمی تھی لیکن اس زمانے کی تصویر آج کل کے جدید ڈجیٹل پورٹریٹ سے بہت مختلف ہوتی تھی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.