بلوچستان ہائیکورٹ میں گیس پریشر کی کمی،تیز ترین میٹرز کی تنصیب کیخلاف آئینی درخواست دائر
کوئٹہ: بلوچستان ہائیکورٹ میں کوئٹہ شہر میں گیس پریشر کی کمی،تیز ترین میٹرز کی تنصیب،گیس کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ اور عدم فراہمی کے باوجود صارفین کو لاکھوں روپے کے بلز بھجوانے اور محکمانہ پروموشن کیسز میں میرٹ کی پامالی پر ایم حسن مینگل ایڈوکیٹ نے آئینی درخواست دائر کر دی ہے، سابق اسسٹنٹ اٹارنی جنرل ایم حسن مینگل ایڈوکیٹ نے آئینی درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ آئین پاکستان کے تحت قدرتی وسائل پر پہلا حق مقامی لوگوں کا ہے مگر ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی میں گیس کے دریافت ہونے سے لیکر اب تک باقی اضلاع تو دور کی بات صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام عوام الناس کو گیس پریشر کی کمی اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے میں ناکام رہے ہیں اور تیز رفتار میٹرز کی تنصیب،گیس لیکیج سے ہونے والے درجنوں اموات کے ساتھ ساتھ گھریلو صارفین سے کمرشل صارفین کی طرح لاکھوں روپے وصول کیے جا رہے ہیں اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام کی غفلت سے کئی مہینوں کے بلز یکمشت صارفین سے وصول کرنے کے لیے لاکھوں روپے کے بلز کوئٹہ کے شہریوں کو بھجوائے گئے ہیں سابق اسسٹنٹ اٹارنی جنرل ایم حسن مینگل ایڈوکیٹ نے اپنی آئینی درخواست میں کہا ہے کہ عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہیں وصول کرنے والے سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام کا رویہ شہریوں کے ساتھ ٹھیک نہیں ہے جس کی وجہ سے آئے روز گیس دفتر میں جھگڑے معمول بن گئے ہیں جبکہ وی آءپی علاقوں میں گیس پریشر ٹھیک اور بلز بھی کم بھجوائے جارہے ہیں مگر شہر کے گنجان آباد اور متوسط طبقے کے رہائشیوں بروری روڈ،کلی عالم خان، سبزل روڈ، عالمو چوک، سریاب روڈ،پشتون آباد، کلی اسماعیل اور دیگر علاقوں میں گیس پریشر کی کمی اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے مرد و خواتین ذہنی مریض بن چکے ہیں اور گیس کمپنی کی غفلت سے گیس لیکیج سے حادثات میں درجنوں افراد جان بحق ہو چکے ہیں ایم حسن مینگل ایڈوکیٹ نے بلوچستان ہائیکورٹ سے استدعا کی ہے کہ سوئی سدرن گیس کمپنی میں آفیسران کو پروموشن شہریوں کو زیادہ بلز بھجوانے اور جرمانے عائد کرنے کی بجائے کارکردگی اور صلاحیت کی بنیاد پر دی جائیں اور کوئٹہ شہر میں گیس پریشر کی کمی،تیز ترین میٹرز کی تنصیب روکنے،غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے اور گیس حادثات میں جاں بحق افراد کے مقدمات گیس کمپنی کے اعلی حکام کے خلاف درج کرنے اور سوئی سدرن گیس کمپنی کا ہیڈکوارٹر کراچی سے کوئٹہ منتقل کیا جائے جبکہ گیس لیبارٹری کو گیس میٹرز کی جانچ پڑتال کے لیے سوئی سدرن گیس کے محکمے کی بجائے علیحدہ بنایا جائیں اور گیس دفتر کے آفیسران کا اپنے اختیارات کے غلط استعمال اور صارفین پر بلاجواز جرمانے عائد کرنے کے خلاف کاروائی کا حکم دیا جائیں۔