عمران خان کی کرپشن کی داستانیں سامنے آئیں تو لوگ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے، مریم نواز

0 32

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ عمران خان کی کرپشن کی داستانیں سامنے آئیں تو لوگ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے، لاہور سے گوجرانوالہ تک ایک ہی نعرہ ہے گو نیازی گو، لوگ وعدہ کریں کہ آئندہ کسی کو بھی اپنے ووٹوں پر ڈاکا ڈالنے نہیں دیں گے۔

یہ بات انہوں ںے گوجرانوالہ میں اپوزیشن اتحاد کے حکومت مخالف پہلے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر اسٹیج پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، پشتونخوا عوامی ملی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، (ن) لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی، پی پی رہنما قمر زمان کائرہ، اسفند یار ولی، سینیٹر ساجد میر، جاوید ہاشمی اور دیگر بھی موجود ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ عمران خان کی کرپشن کی داستانیں جب عوام کے سامنے آئیں گی تو لوگ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے، عمران خان یاد رکھو حالات بدلتے ہوئے دیر نہیں لگتی، لوگ مجھ سے وعدہ کریں کہ آٹا، چینی چوروں سے حساب لیں گے اور آئندہ کسی کو اپنے ووٹوں پر ڈاکا ڈالنے نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ  کون کہتا تھا کہ میرے خلاف اگر پانچ لوگوں نے بھی نعرہ لگایا تو استعفی دے دوں گا، آپ خود جائیں گے یا عوام اٹھا کر باہر پھینک دیں؟

ہر طرف بحران، عوام بتائیں تبدیلی پسند آئی؟ بلاول

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ملک میں تبدیلی یہ ہے کہ اس وقت معیشت بدترین دور سے گزر رہی ہے، لوگوں کو روٹی تک میسر نہیں، عوام بتائیں کون سی تبدیلی آئی؟ تبدیلی یہ ہے کہ آج پاکستان میں تاریخی غربت اور بے روزگاری آئی، غریب مزید غریب تر ہوتا جارہا ہے، بجلی، گیس اور آٹا کا بحران ہے، میرا ایک ہی سوال ہے کیا عوام کو یہ تبدیلی پسند آئی؟

نوکریوں اور روزگار کا وعدہ کرکے لوگوں کو بے گھر اور بے روزگار کردیا

بلاول نے کہا کہ آج مزدور کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں اور موجودہ حکومت نے ہر طرف مہنگائی کا بازار گرم کردیا، عمران خان کے پاس ہر بحران کا حل ٹائیگر فورس ہے؟ عمران خان نے وعدہ کیا تھا ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھر کا لیکن حکومت نے کروڑوں لوگوں سے چھت چھین لی اور کروڑوں لوگوں کو بے روزگار کردیا، وعدہ کیا تھا کہ قرض نہیں لیں گے لیکن ملک کو قرضوں میں جکڑ دیا، کرپشن ختم کرنے کا وعدہ کیا لیکن کرپشن کے ریکارڈ توڑ دیے۔

پی ٹی آئی کے اپنے لوگ بھی کہہ رہے ہیں پنجاب میں کرپشن بڑھ گئی

چیئرمین پی پی نے کہا کہ یہ کیسا نظام ہے کہ اگر آصف زرداری، مریم نواز اور دیگر رہنماؤں پر الزام لگے تو سچ لیکن اگر عمران خان یا علیمہ باجی پر الزام لگے تو جھوٹ نکلے، پی ٹی آئی کرپشن کے نام پر صرف سیاسی انتقام لے رہی ہے، ان کے اپنے لوگ بھی کہہ رہے ہیں کہ پنجاب میں کرپشن بڑھ گئی، ہم کرپشن ختم کرنے کے حامی ہیں جس کے لیے آپ کو ہر پاکستان کے لیے یکساں قانون بنانا ہوگا، اگر سابق وزرائے اعظم سے کرپشن کی تفتیش کرنی ہے تو سابق جرنیلوں اور ججوں کو بھی احتساب کے دائرے میں لانا ہوگا۔

این ایف سی ایوارڈ میں پنجاب کو 500 ارب روپے کم دیے گئے

بلاول نے کہا کہ اس بار این ایف سی ایوارڈ میں پنجاب کو 500 ارب روپے کم ملے ہیں، اگر یہ رقم مل جاتی تو گوجرانوالہ میں کتنی ترقی آجاتی؟ یہ پنجاب کے عوام کا پیسہ ہے اسے دے کر کوئی احسان نہیں کرے گا۔

قبل ازیں جلسے سے ن لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی، پی پی رہنما راجہ پرویز اشرف، سینیٹر ساجد میر نے بھی خطاب کیا۔ قبل ازیں مریم نواز قافلے کی شکل میں جاتی امرا سے روانہ ہوئیں تو مختلف شہروں سے آنے والے لیگی کارکن بھی ان کے ہمراہ رہے، راستے میں ممکنہ رکاوٹیں ہٹانے کے لیے 2 کرینیں بھی مریم نواز کے قافلے کا حصہ بنیں۔

مریم نواز؛

جلسہ گاہ روانگی سے قبل مریم نواز نے خطاب میں کہا کہ اللہ کا نام لے کر عوام کے لیے جدوجہد کرنے میدان میں نکلے ہیں، آج جمعہ کے مبارک دن پر 22 کروڑ عوام کے حقوق کے لیے نکلے ہیں، سب کو دعوت دیتی ہوں کہ وہ باہر نکلیں اور اس ریلی میں شریک ہوں تاہم سرکاری و انتظامی ادارے اس قافلے کے راستے میں نہ آئیں۔

مولانا فضل الرحمان؛

گوجرانوالہ روانگی سے قبل لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے عوام کی نمائندہ حکومت کی تشکیل کے لیے نئے الیکشن کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آج حکومت کے خلاف تحریک کا آغاز ہوگا، پاکستان میں اس وقت جعلی حکومت مسلط ہے جب کہ حکومتی نااہلی کی وجہ سےعوام پریشان ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری؛

لالہ موسیٰ میں پریس کانفرنس کے دوران چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی تحریک کا باقاعدہ آغاز ہورہا ہے، پیپلز پارٹی کے قافلے کی قیادت میں خود کررہا ہوں، عمران خان کی سلیکٹڈ حکومت کو گوجرانولہ کی سرزمین سے عوام کی آواز پہنچائیں گے، عمران خان کی بوکھلاہٹ سب کے سامنے ہے، اس نالائق نے پوری قوم کا جینا حرام کردیا ہے تاہم اب نااہل کے جانے کا وقت آچکا ہے۔

جلسہ گاہ اور سیکیورٹی انتظامات؛ 

جلسے سے متعلق منتظمین اور انتظامیہ میں معاہدہ طے پا گیا ہے، ماسک کے بغیر کوئی بھی شخص جلسہ گاہ میں داخل نہیں ہوگا اور شرکا کے درمیان 3 سے 6 فٹ کا فاصلہ ضروری ہے، 7 ہزار اہل کار سیکیورٹی فرائض سرانجام دیں گے۔ جلسہ گاہ میں قائدین کے لیے 80 فٹ لمبا اور 24 فٹ چوڑا اسٹیج تیار کیا گیا ہے اور لائٹس کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.