موسم سرما میں کووڈ: ہمیں کتنا فکر مند ہونا چاہیئے؟

0 35

ایسا لگ رہا ہے کہ اس بار سردیوں کا موسم مشکل ہو گا۔ پورے برطانیہ میں وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، ہماری روزمرہ گرمیوں پر پابندیاں پہلے سے سخت کی جارہی ہیں، خدشہ ہے کہ ہسپتال اپنی صلاحیت سے زیادہ بھرنا شروع ہو گیے ہیں اور وبا پر سیاسی اور سائنسی تنازعات جاری ہیں۔

ہر وقت معلومات کا مستقل سلسلہ جاری ہے جو الجھن پیدا کر سکتا ہے۔

اس لیے آئیے سیدھے اور آسان طرقے سے بات کریں۔ ہم کس حال میں ہیں، کیا یہ موسم بہار کی واپسی ہے اور ہمیں کتنا فکر مند ہونا چاہئے؟

کووڈ اب بھی زیادہ تر کم سنگین ہے

واضح رہے کہ زیادہ تر لوگ کووڈ سے صحت یاب ہو جاتے ہیں اور یہ اکثر غیرسنگین بیماری ہوتی ہے۔

اس کی اہم علامات کھانسی، بخار اور سونگھنے کے احساس کم ہونا ہیں اور زیادہ تر لوگ گھر میں صحت یاب ہوجاتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق اس وائرس کے زد میں آنے والے 1 سے 3 فیصد افراد کو ہسپتال میں علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔

لیکن یہ عام فلو سے زیادہ مہلک ہے

وائرس کی زد میں آنے کے بعد مرنے والے افراد کی تعداد جسے انفیکشن کی اموات کی شرح کہتے ہیں تقریباً

0.5 فیصد ہے۔ اگر دوسرے لفظوں میں کہیں تو ہر 200 متاثرہ افراد میں ایک کی موت ہوتی ہے۔

جبکہ عام غلط فہمی کہ کووڈ ایک موسمی فلو کے انفیکشن کی طرح ہی ہے یہ پانچ سے 25 گنا زیادہ مہلک ہے۔

انفلوئنزا سے متاثرہ افراد میں 0.02 فیصد اور 0.1 فیصد کے درمیان موت واقع ہوتی ہیں۔

کچھ لوگوں کو زیادہ خطرہ ہوتا ہے

کسی بھی عمر کے لوگ کووڈ سے مر سکتے ہیں لیکن عمر رسیدہ لوگوں میں موت کا خطرہ زیادہ ہے۔

45 سال سے کم عمر کے افراد میں صرف ایک چھوٹا سا حصہ وائرس کے وجہ سے مرتا ہے لیکن یہ خطرہ 65 سال کی عمر کے بعد کافی بڑھ جاتا ہے۔

اور دوسرے صحت کی پریشانیاں جیسے ٹائپ 2 ذیابیطس اور دل کی بیماری میں مبتلا افراد کو بھی زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

یہ خطرہ کچھ خاص نسل کے لوگوں میں بھی زیادہ ہوتا ہے۔

کووڈ کی زد میں آنے والوں کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے

اعداد و شمار ایک سنگین کہانی بیان کرتی ہیں۔

روزانہ معاملہ کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ہسپتال میں داخل ہونے والے لوگوں کی تعدادبھی بڑھ رہی ہے۔اور مرنے والوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے

وبا کے عروج پہ ہر روز 3،000 افراد ہسپتال میں داخل ہو رہے تھے۔ فی الحال یہ تعداد ایک ہزار سے نیچے ہے۔

یہ مسئلہ رفتار کا ہے۔

یہ تشویش بڑھ رہی ہے کہ معاملات بالآخر نیشنل ہیلتھ سروس کے صلاحیت پر غالب ہو سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو کووڈ اور دیگر اسباب سے زیادہ لوگ مرجائیں گے کیونکہ ہسپتال میں بستر اور ڈاکٹروں کی شدید کمی ہو جایگی۔

لیکن یہ وائرس پہلے سے زیادہ آہستہ پھیل رہا ہے

ہم اپنی روز مرہ کی زندگیوں میں جو چیزیں کر رہے ہیں وہ وائرس کے پھیلاؤ میں فرق لا رہے ہیں۔

وبائی امراض کے آغاز میں ہر تین سے چار دن میں متاثرہ افراد کی تعداد دوگنی ہوتی رہی تھی۔ اب دوگنا ہونے کی وہ شرح ہر پندرہ دن کے قریب ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.