پی ڈی ایم کا آج گوجرانوالہ میں پہلا پاور شو، جناح سٹیڈیم میں تیاریاں مکمل

0 45

پی ڈی ایم کے آج گوجرانوالہ میں ہونے والے جلسے کو چند گھنٹے باقی رہ گئے، جناح سٹیڈیم میں تیاریاں مکمل کرلی گئیں، کارکنوں کا جوش وجذبہ عروج پر پہنچ گیا۔

سٹیڈیم میں قائدین کے بیٹھنے کیلئے 80 فٹ لمبا اور 24 فٹ چوڑا سٹیج تیار کیا گیا ہے اور لائٹس لگا دی گئی ہیں۔ سٹیڈیم کے چاروں اطراف پی ڈی ایم کے قائدین کے بڑے بڑے فلیکسز آویزاں ہیں جبکہ جلسہ گاہ آنے والے راستے پر کنٹینرز کھڑے کے راستے بند کر دیئے گئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 32 مقامات پر کنٹینرز کھڑے کیے گئے ہیں۔

مریم نواز جاتی امرا سے گوجرانوالہ روانہ ہو گئی ہیں۔ ان کے استقبال کیلئے 8 مقامات پر استقبالیہ کیمپ لگائے گئے ہیں۔ وہ شاہدرہ اور کالا شاہ کاکو استقبالیہ میں لیگی کارکنوں سے مختصر خطاب کریں گی۔ لیگی رہنما کا مرید کے پر استقبال کیا جائے گا۔ مریم نواز کا کامونکے بھی استقبال کیا جائے گا۔ مریم نواز کو چن دا قلعہ پر استقبال کر کے ریلی کی شکل میں پنڈال میں لے کر جایا جائے گا۔

28 نکاتی معاہدہ

جناح سٹیڈیم گوجرانوالہ میں جلسے کی اجازت کیساتھ 28 نکاتی معاہدہ طے پایا ہے۔ جلسے کا وقت شام 5 سے رات 12 بجے تک مقرر کیا گیا ہے۔ کورونا ایس او پیز کو مدنظر رکھنا لازم قرار دیا گیا، بغیر ماسک اور سینیٹائزر کوئی کارکن جلسے میں داخل نہیں ہو سکتا۔

معاہدے کے مطابق پی ڈی ایم کا کوئی رہنما سٹیڈیم کے علاوہ کسی جگہ تقریر نہیں کرے گا، جی ٹی روڈ بند نہیں کیا جائیگا، ملکی سلامتی کے اداروں اور خلاف آئین کوئی تقریر نہیں کی جائے گی، معاہدے کی خلاف ورزی پر جلسہ انتظامیہ کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے۔

پولیس کا پلان تیار

ادھر پی ڈی ایم کے گوجرانوالہ جلسہ میں جانے والے قافلوں کو روکنے کیلئے پولیس نے پلان تیار کرلیا۔ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کو سیل کر دیا گیا۔ 24 مقامات پر ناکہ بندی کر دی گئی، پولیس کی 45 موبائل ٹیمیں گشت بھی کریں گی۔ سکھیکی میں بھی لاہور روڈ پر کنٹینر لگ گئے، شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

درخواستیں نمٹا دیں

لاہور ہائیکورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی جانب سے کسی کارکن کو گرفتار نہ کرنے کی یقین دہانی پر پی ڈی ایم جلسہ رکوانے اور شاہراہیں بند کرنے کے خلاف درخواستیں نمٹا دیں۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مسعود عابد نقوی نے درخواستوں پر سماعت کی۔ درخواست میں پنجاب حکومت، آئی جی اور ہوم سیکرٹری کو فریق بنایا گیا۔ عدالتی حکم پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس عدالت میں پیش ہوئے اور جواب میں کہا کہ کسی لیگی کارکن کو گرفتار نہیں کیا، پرامن جلسہ کی اجازت دیدی گئی لیکن قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی کو نہیں دیں گے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ گوجرانوالہ جلسے کی وجہ سے کارکنان اور رہنماؤں کو پکڑا جا رہا ہے، پی ڈی ایم کے جلسے کو روکنے کے لیے راستے بند کیے گئے ہیں، عدالت سے استدعا ہے ن لیگ کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کو کالعدم قرار دیکر تمام راستے کھولنے کے احکامات جاری کرے۔ لاہور ہائیکورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کا بیان سامنے آنے کے بعد دائر تین درخواستیں نمٹا دیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار

وزیراعلی عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ جلسوں سے کوئی پریشانی نہیں، اپوزیشن کی کوئی سمت ہے نہ ان کو کوئی سمجھ ہے، پوری اپوزیشن کے پاس کوئی ایجنڈا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا یہ عناصر جلسوں کی آڑ میں اپنی کرپشن کا تحفظ چاہتے ہیں، وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں بدعنوانی اور کرپٹ عناصر کا احتساب جاری رہے گا، تحریک انصاف کا مینڈیٹ کرپشن کا خاتمہ ہے، اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

عثمان بزدار نے کہا عوام انتشار کی سیاست کو پہلے بھی مسترد کرچکے اب بھی ساتھ نہیں دیں گے، تحریک انصاف کی حکومت عوامی خدمت میں مصروف ہے، اپوزیشن صرف نعرے بازی میں مصروف ہے، اپوزیشن جو مرضی کر لے، عوامی خدمت کا سفر رواں دواں رہے گا۔ انہوں نے کہا کورونا کی دوسری لہر سر اٹھا رہی ہے، احتجاجی سیاست کرنے والے عناصر عوام کی زندگیوں سے نہ کھیلیں، کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی سے مرض بڑھ سکتا ہے۔

مریم اورنگزیب

لیگی رہنما مریم اورنگزیب نے کہا گوجرانوالہ جلسہ نااہل کرپٹ ٹولے کے خلاف فیصلہ کن ریفرنڈم ہوگا، رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں، نواز شریف کے شیر بڑی تعداد میں آ رہے ہیں۔

انہون نے کہا ساری رات ادھر کارکن موجود تھے جلسہ کے حوالے سے تیاری جاری ہے، کامیاب جلسہ ہوگا، پرچے درج کئے گئے، ڈرایا گیا، جب کچھ نہیں ہوا تو راستے بند کر دئیے ہیں، بہت مشکلات رکاوٹیں لگا کر روکا جا رہا ہے، لیکن رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے نواز شریف کے شیر بڑی تعداد میں آ رہے ہیں، گزشتہ رات کو ہی پنڈال سج گیا، شبلی فراز اپنا استعفیٰ لکھنا شروع کر دیں، استعفیٰ کا متن بھی ہم دے دیں گے۔

فواد چودھری

فواد چودھری نے کہا اپوزیشن نے گوجرانوالہ سٹیڈیم بھرنا تھا، انہوں نے آدھا سٹیڈیم چھوڑ کر سٹیج لگایا، پہلے ہی گنجائش 30 ہزار تھی جو اب 20 ہزار رہ گئی، اتنی جماعتیں مل کر بھی ناکامی کے خوف کا شکار ہیں، یہ عمران خان ہی تھے جنہوں نے مینار پاکستان کا گراؤنڈ بھر دیا تھا، ان سب سے مل کر بھی اس کا آدھا نہیں ہونا۔

فیاض الحسن چوہان

فیاض الحسن چوہان نے دعویٰ کیا اپوزیشن جلسے پر ایک ارب 3 کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے، پہلا سوال ہے کہ یہ پیسہ کہاں سے آ رہا ہے ؟ کورونا کے حوالے سے صورتحال سب کے سامنے ہے، پنجاب کے 2 وزرا کو کورونا ہوگیا ہے، حساس معاملے پر سیاست کرنے کی ضرورت نہیں، ایس او پیز اور شرائط کے ساتھ اپوزیشن کو جلسے کی اجازت دی، یہ 2 لاکھ روپے ماسک پر بھی خرچ کر دیں، دیکھتے ہیں یہ کورونا ایس او پیز پر کس قدر عمل کرتے ہیں۔

وزیر اطلاعات پنجاب کا کہنا تھا اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد مکس اچار پارٹی ہے، بارہ مصالحوں والی چارٹ تو سنی، گیارہ مصالحوں والی مکس اچار پارٹی اب سن رہے ہیں، اس مکس اچار پارٹی میں اقربا پروری، منی لانڈرنگ کے مصالحے بھی ہیں، ان گیارہ مصالحوں میں جعلی ٹی ٹی کی دال چینی بھی ہے، اس میں جعلی اکاونٹس کے لونگ بھی ہیں، یہ مصالحے بڑے تیکھے ہیں، پہلے ہی ان مصالحوں نے پاکستان کی معیشت اور عوام کے معدوں کو السر اور کینسر کیا ہوا، اگر مزید تیکھے مصالحے استمعال کئے تو پاکستان کی معیشت کا معدہ خراب ہوگا۔

شہباز گل

شہباز گل نے کہا ہے کہ حکومت جلسہ کے شرکا کو پانی، ماسک اور سینی ٹائزر مہیا کرے گی، حکومت کورونا سے بچاؤ کے اقدامات ہر صورت کرے گی، عمران خان کی حکومت ہر حال میں عوام کی سہولت اور کورونا سے حفاظت کے اقدامات کرے گی، خاندانی کرپشن بچاؤ کوشش میں معصوم عوام استعمال ہو رہی ہے۔

فیصل واوڈا

فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ اپوزیشن کا بیانیہ ہے کرپشن بچانے نکلے ہیں قوم ساتھ دے، کرپشن کے مایہ ناز کھلاڑی آج گوجرانوالہ میں خطاب کریں گے، مریم نواز، ابا، چچا اور کزنز کی کرپشن کے تحفظ کیلئے ریلی کی قیادت کریں گی، اپوزیشن کی سرکس میں ایک سے بڑھ کر ایک کرپٹ رہنما شریک ہے، مریم نواز اپنے بابا کی کرپشن کے تحفظ کیلئے چیخ و پکار کریں گے، مولانا فضل الرحمان بھی کیسز کھلتے دیکھ کر خوفزدہ ہیں۔

وزیر قانون راجہ بشارت

وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا پی ڈی ایم کی خواہش پر جلسے کی اجازت دی گئی، جلسے پر معاہدے کے مطابق عمل نہ ہوا تو قانونی کارروائی کریں گے، اپوزیشن عوام کی جانوں کو خطرےمیں نہ ڈالے، کوویڈ ایکٹ کے تحت جلسے پر پابندی لگا سکتے تھے، اپوزیشن کو قومی ذمہ داریوں کا بھی احساس کرنا چاہیئے، ملک میں کورونا کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے، ہمیں تحریری طور پر کہا گیا شرکا کو ماسک، سینیٹائزر فراہم کریں گے، دیکھتے ہیں جلسے کے منتظمین کس حد تک ایس او پیز پر عمل کرتے ہیں۔

راج بشاورت کا کہنا تھا تحریری معاہدہ کر کے گرفتاریوں کا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ جلسہ گاہ میں لاکھوں لوگ جمع ہوں گے، چرچہ کیا جا رہا ہے کہ یہ پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ ہوگا، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ 30 ہزار کی گنجائش والے سٹیڈیم میں جلسہ کر کے تاریخ کا بڑا جلسہ قرار دے گا، یہ اس کی خام خیالی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.