کیا چار بڑی معیشتوں کا اتحاد دنیا پر چین کے تجارتی اثرورسوخ کو کم کر پائے گا؟

چھ اکتوبر (آج) کو انڈیا، آسٹریلیا، جاپان اور امریکہ کے وزرائے خارجہ ٹوکیو میں ملاقات کر رہے ہیں اور اس ملاقات کے دوران ان ممالک کے وزرائے خارجہ کی جانب سے خصوصی اہمیت چین کے ساتھ معاملات کو دیے جانے کی توقع ہے۔
ان چار ممالک کے گروپ ’کواڈ‘ کے اس اہم اجلاس میں شرکت کے لیے انڈیا کے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر جاپان میں موجود ہیں۔
معیشت کے بارے میں بات کریں تو امریکہ کواڈ کے رکن ممالک میں سب سے بڑی معیشت ہے جبکہ جاپان تیسری اور انڈیا معاشی لحاظ سے پانچویں بڑی معیشت ہے۔ آسٹریلیا بھی ایک ترقی یافتہ ملک ہے۔
یہ بڑی طاقتیں دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین کے دنیا پر بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور دنیا کے چین پر انحصار کو کم کرنے کے ارادے سے ٹوکیو میں اکھٹے ہوئی ہیں۔
یہ اجلاس گذشتہ ماہ ہونے والے ورچوئل اجلاس سے مختلف ہے جس میں انڈیا، جاپان اور آسٹریلیا کے ٹریڈ اینڈ کامرس وزرا نے شرکت کی تھی۔ اس ورچوئل یعنی ویڈیو کانفرنسنگ اجلاس کا مقصد چین پر معاشی اور تجارتی انحصار کو کم کرنے کے لیے تینوں ممالک کے مابین سپلائی چین تیار کرنا تھا۔
انڈیا، جاپان اور آسٹریلیا کی اس کوشش کو سپلائی چین ریزیلیئنس انیشیئیٹو (ایس سی آر آئی) کا نام دیا گیا ہے جس کا مقصد ایسی راہیں نکالنی ہیں جن سے چین پر انحصار کم ہو اور دوسرے ممالک یا بلاکس کے ساتھ مل کر سپلائی چین کو بہتر بنانے کے طریقے تلاش کیے جائيں۔
ان کوششوں کو چینی صدر شی جن پنگ کے ’بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئیٹو‘ کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئیٹو چینی حکومت کی انفراسٹرکچر اور سپلائی چین تیار کرنے کی حکمت عملی ہے جس کے تحت 70 ممالک اور اداروں میں سرمایہ کاری کی گئی ہے۔
چین نے یہ پراجیکٹ سنہ 2013 میں شروع کیا تھا اور اب تک اس منصوبے پر اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے۔
چین کے خلاف دو دھاری تلوار
کہا جا رہا ہے کہ اس دو دھاری تلوار، یعنی کواڈ اور ایس سی آر آئی، کا تجارت، صحت اور سلامتی کے شعبے میں تعاون بڑھا کر چین کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔
دہلی کے فور سکولز آف مینیجمنٹ میں چینی امور کے ماہر ڈاکٹر فیصل احمد کہتے ہیں کہ ’انڈیا، جاپان اور آسٹریلیا اس معاملے میں سرگرم ہیں اور آسیان ممالک کو بھی اس میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘
اس سے انڈیا کو کتنا فائدہ ہو گا؟
ڈاکٹر فیصل احمد کا کہنا ہے کہ انڈیا کو اُس وقت فائدہ ہو گا جب وہ علاقائی جامع اقتصادی شراکت (آر سی ای پی) میں شامل ہو جائے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس گروپ میں جاپان اور آسٹریلیا کے علاوہ چین بھی شامل ہے، اس لیے انڈیا کو اس فورم پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ایس سی آر آئی جیسی پہل سے جاپان اور آسٹریلیا کو آسیان اور مشرقی ایشیا میں اپنی چین سپلائی کو متنوع بنانے میں مدد مل سکتی ہے اور وہ آر سی ای پی کے تحت فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ لیکن ایس سی آر آئی ممکنہ طور پر انڈیا کے لیے سود مند ثابت نہ کیونکہ وہ اس کا حصہ نہیں ہے۔ لہذا وبائی بیماری کے بعد کی دنیا میں انڈیا کو اسی صورت میں فائدہ ہو گا جب وہ دوبارہ آر سی ای پی میں شامل ہو جائے۔‘
ٹوکیو اجلاس کا ایجنڈا
ٹوکیو میں جاری اجلاس کواڈ ممالک کا دوسرا اجلاس ہے۔ پہلی ملاقات گذشتہ سال ستمبر میں نیویارک میں ہوئی تھی۔
اس اجلاس کے ایجنڈے کے بارے میں انڈیا کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ’ایجنڈے میں بہت حد تک کووڈ 19 کے بعد نئے عالمی نظام اور ایشیا میں وبائی امراض سے پیدا ہونے والے چیلنجز پر غور کرنا ہے۔ علاقائی سلامتی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے اجتماعی طور پر توقع کی جائے گی کہ وہ ایک آزاد اور انڈو پیسفک خطے کی اہمیت کی تصدیق کریں گے۔‘
اس وبا کی وجہ سے ہونے والی تباہی سے مختلف ممالک کے مابین بدلتے ہوئے رشتے اور نئے معاشی چیلنجز سے کسی کو انکار نہیں ہے۔ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے حال ہی میں اقوام متحدہ سے خطاب کے دوران اس وبا کے بعد نئی دنیا کے ابھرنے کی پیش گوئی کی تھی اور اس میں انڈیا کے اہم کردار پر زور دیا تھا۔


