
تہران : ایرانی خواتین نے کئی دہائیوں کے بعد تہران کے سٹیڈیم میں مردوں کا ایک فٹبال میچ دیکھا ۔حکومت کی جانب سے انھیں یہ میچ دیکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔ ساڑھے تین ہزار سے زیادہ خواتین نے ایران اور کمبوڈیا کے درمیان ورلڈ کپ کوالیفائر میچ دیکھا۔سنہ 1979کے اسلامی انقلاب کے بعد خواتین پر سٹیڈیم میں جا کر مردوں کے میچ دیکھنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔تاہم ایرانی حکومت کے حالیہ فیصلے کو انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جمعرات کو اپنے بیان میں کہا کہ خواتین شائقین کے لیے محدود ٹکٹ جاری کیے گئے۔ تنظیم نے خواتین کی شرکت پر عائد تمام پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔جمعرات کو ساڑھے تین ہزار سے زیادہ خواتین نے ایران اور کمبوڈیا کے درمیان ورلڈ کپ کوالیفائر میچ دیکھا اور اس وقت ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی جب ایران نے یہ میچ صفر کے مقابلے میں 14گول سے جیت لیا۔تہران کے آزادی سٹیڈیم میں ان خواتین کے لیے مخصوص انکلوژر بنائے گئے تھے۔ سٹیڈیم میں 78 ہزار افراد کی گنجائش ہے۔اطلاعات کے مطابق خواتین کے ٹکٹ منٹوں میں فروخت ہو گئے۔سٹیڈیم کے میں خواتین شائقین کو ایرانی پرچم لہراتے اور اپنی ٹیم کے لیے نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔فیفا نے اس ہفتے اپنے بیان میں کہا کہ وہ مضبوطی سے اپنے موقف پر قائم ہے کہ ایران میں خواتین کو فٹبال میچوں تک مکمل رسائی حاصل ہو۔




