اسرائیل کے ساتھ معاہدوں سے مسجداقصی کی تقسیم ممکن ہوگئی، ماہرین
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سفارتی تعلقات کے قیام کے لیے خلیجی ریاستوں کے اسرائیل کے ساتھ معاہدوں سے مسجد اقصٰی کی تقسیم کی راہ ہموار ہوگی۔
خلیجی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹیریسٹریئل یروشلم(ٹی جی) نامی این جی او کی ایک خصوصی رپورٹ میں اس بات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے سفارتی تعلقات قائم کرنے کے معاہدوں میں استعمال کی گئی زبان سے مسجد اقصی کے احاطے پر مسلمانوں کا مکمل اختیار ختم ہونے کی راہ نکلتی ہے۔
1967 میں 35 ایکڑ پر محیط الحرم الشریف یا الاقصی مسجد کے احاطے سے متعلق اسرائیل نے بھی یہ تسلیم کیا تھا کہ یہاں غیر مسلموں کو آنے کی اجازت تو ہوگی تاہم وہ عبادت نہیں کرسکیں گے۔ 2015 میں نتن یاہو نے بھی اسی حیثیت کو تسلیم کرنے کا از سر نو اعلان کیا تھا۔