اے پی سی میںمرکزی پارٹیاں جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے غیر جمہوری قوتوں کا راستہ روکیں، ڈاکٹر عبدالحی بلوچ
ڈھاڈر: نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی سربراہ سابقہ سینیٹر ڈاکٹر عبدالحی بلوچ نے کہا ہے کہ اے پی سی بلانے والوں کا ہم خیر مقدم کر تے ہیں لیکن اے پی سی میںمرکزی پارٹیاں جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے غیر جمہوری قوتوں کا راستہ روکیں سیلکٹیڈحکومت بنانے والوں کا جب تک سیاسی عمل میں کردار ختم نہیں ہوگا تب تک جمہوریت کی مضبوطی نہیں ہوسکتی ۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئےانہوں نے کہا بلوچستان میں غیر جمہوری قوتوں کے ہونے والے ظلم خلاف آج تک مرکزی پارٹیوں نے اپنا کردار ادا نہیں کیا ہے حیات بلوچ جیسے واقعات کئی سالوں سے صوبے میں جاری ہیں حیات بلوچ کے واقعے نے ان غیر جمہوری قوتوں کو بے نقاب کر دیا ہے صوبے میں ہزاروں نوجوانوں کو لاپتہ کیا جاچکا ہے اور اب تک بھی نوجوانوں کو لاپتہ کیا جا رہا ہے کئی نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں ان کے خاندانوں کو تحفے میں دی جا رہی ہیں انہوں نے کہا ہے کہ صوبے میں زیادتیاں خاں آف قلات کے بھائی پرنس آغاعرفان احمدزئی سے لیکر نواب نوروز خان سے جاری ہیں بلوچ عوام کے حقوق اور انکے سائل وسائل کو غضب کیا جا رہا ہے بلوچ قوم نے اپنے سائل وسائل کے حقو ق حاصل کرنے کے لیئے سیاسی کردار ادا کیا ہے جب کہ سیاسی ورکروں کو غیرجمہوری قوتیں طاقت کے ذریعے لاپتہ کر دیا جا تا ہے یا پھر ان کی مسخ شدہ لاشیں ویرونوں میں پھینک دی جا تی ہیں انہوں نے کہا اے پی سی میں جن غیر جمہوری قوتوں کا راستہ روکنے کی جو کوشیش کی جا رہی ہیں ان کو چاہیے کہ وہ بلوچستان کے محکوم عوام کے لیے بھی آواز بلند کرنے میں اپنا کردار ادا کریں انہوں نے کہا تمام سیاسی جماعتوں کو جمہوریت کی بحالی اور اسکی مضبوطی کے لیے غیر جمہوری قوتوں کا راستہ روکنے کی اشد ضرورت ہے انہوں نے کہا اے پی سی میں صرف ایک انسان یا اسکی ٹیم کو گھر جانے کے لیے نہیں ہونی چاہئے بلکے ہمیں سلیکٹڈ حکومت بنانے والوں کے خلاف حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا جس طرح بڑے صوبے کی طرف سے غیر جمہوری قوتوں کے خلاف انقلاب لانے کے لیے آواز بلند کی جا رہی اسی طرح محکوم و متوسط طبقے کی عوام کے صوبے بھی انکا ساتھ دیں گے انہوں نے کہا بلوچستان میں ظلم کا بازار گرم ہے اور غیر منوعہ علاقہ اور منتقل گاہ بنایا گیا ہے اورصوبے میں چادر چار دیواری کا بھی پامال ہورہا ہے صوبے کا مسلئہ سیاسی طور پر حل کرنے کی بجائے 17دسمبر 2005سے صوبے میںغیر سیاسی قو تیں بزور طاقت کا استعمال کر رہی ہیں تمام پالمینٹ کی اپوزیشن جماعتوں کو چاہیے کہ وہ محکوم و متوسط طبقے کے صوبے کی عوام پر ہونے والے ظلم کے لیے بھی آواز بلند کریں انہوں نے کہا جمہوری سیاسی قوموں کا حق بنتا ہے کہ وہ اپنی عوام پر ہونے والے ظلم پر آواز بلند کریں جبکہ غیر سیاسی قوتیںسیاسی جماعتوں کا راستہ روکنے میں طاقت کا استعما ل کر رہے ہیں ۔