افغان حکومت اور طالبان میں آج تاریخی امن مذاکرات : ہماری کوششیں کامیاب ہوئیں : عمران خان

0 28

دوحہ  : طالبان اور افغان حکومت کے درمیان تاریخی امن مذاکرات آج سے دوحہ میں شرو ع ہورہے ہیں جس کیلئے کابل حکومت کی21رکنی مذاکراتی ٹیم دوحہ پہنچ گئی۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو بھی مذاکرات کے افتتاحی سیشن میں شرکت کریں گے ۔ امید کی جارہی ہے کہ یہ مذاکرات تقریباً دو عشروں سے جنگ زدہ افغانستان میں قیام امن کے لئے اہم سنگ میل ثابت ہوں گے ۔ قطری حکام نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ کئی ماہ سے تاخیر کا شکار طالبان اور افغان حکومت کے درمیان بین الافغان امن مذاکرات کا آغاز ہفتے کو دوحہ میں ہورہا ہے ۔یہ مذاکرات امریکا کی حمایت سے ہورہے ہیں ، امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اس میں شرکت کے لئے دوحہ پہنچ رہے ہیں کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے پہلے جس میں وہ دوبارہ منتخب ہونے کی کوشش کررہے ہیں، امریکی افواج کو لامتناہی جنگوں سے نکالنے کے اپنے انتخابی وعدوں کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔ دوحہ کی فلائٹ میں موجود رپورٹروں سے گفتگو میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ انہیں اس بات کا احساس ہے کہ افغانوں کے مابین مذاکرات ایک مشکل مرحلہ ہے مگر اب انہیں ہی کچھ کرنا ہے ۔امریکی وزیر خارجہ پومپیو نے ایک بیان میں ان مذاکرات کو دہائیوں کی جنگ اور خونریزی کے خاتمے کا ایک تاریخی موقع قراردیتے ہوئے کہا کہ اس موقع کو ضائع نہیں کیا جانا چاہئے ۔افغان حکومت کی ٹیم کے رکن نادر نادیری نے دوحہ روانگی سے قبل اپنے ٹویٹ میں کہا کہ طالبان کیساتھ براہ راست مذاکرات شروع کرنے کیلئے کابل حکومت کی مذاکراتی ٹیم کابل سے دوحہ روانہ ہوگئی ہے ۔ مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن عبدالحافظ منصور نے رپورٹروں کو بتایا کہ ہم دوحہ طالبان کو بتانے کیلئے جا رہے ہیں کہ وہ طاقت کے زور پر کامیاب نہیں ہو سکتے ۔بہتر ہے کہ مصالحت کی جائے ، ہم مسائل ایک دوسرے کیساتھ بات چیت کے ذریعے حل کر سکتے ہیں۔ بین الافغان مذاکرات سے افغانیوں میں امن کی امید پیدا کی ہے ۔ قطری وزارت خارجہ نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے یہ مذاکراتی عمل افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کی جانب ایک سنجیدہ اور اہم قدم ہے ۔افغانستان کے سابق چیف ایگزیکٹو اور افغانستان کی اعلیٰ قومی مفاہمتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ بھی آج قطر روانہ ہورہے ہیں۔مفاہمتی کونسل کی طرف سے ٹویٹر پر جاری بیان میں کہا گیا ہے اعلیٰ قومی مفاہمتی کونسل کو امید ہے کہ طویل انتظار کے بعد یہ مذاکرات ملک میں مستقل امن ، استحکام اور جنگ کے خاتمے کا باعث بنیں گے ۔خیا ل رہے امن مذاکرات کی راہ میں آخری رکاوٹ فرانسیسی،آسٹریلوی شہریوں اور فوجیوں کی ہلاکت میں ملوث چھ طالبان قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے تھی اور اس رکاوٹ کے خاتمے کے چند گھنٹے کے بعد ہی امن مذاکرات کے آغاز کا اعلان کردیا گیا۔فرانس اور آسٹریلیا نے ان چھ طالبان جنگجوؤں کو رہا کرنے پر اعتراض کیا تھا تاہم ایسا لگتا ہے کہ ان قیدیوں کو قطر بھیج کر ایک سمجھوتا ہوگیا ہے ۔ ان چھ افراد میں ایک سابق افغان فوجی بھی شامل ہے جس پر 2012 میں پانچ فرانسیسی فوجیوں کو ہلاک اور 13 دیگر کو زخمی کرنے کا الزام ہے جبکہ آسٹریلیا کے تین فوجیوں کو قتل کرنے والے ایک اور سابق افغان فوجی بھی ان چھ افراد میں شامل ہے ۔افغان ماہر اور امریکن ریسرچ گروپ تھنک ٹینک بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے سینئر فیلو وانڈا فیلبب براؤن نے کہا امن مذاکرات طوالت اور مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔کابل کے ایک دکاندار نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ ہم صرف امن چاہتے ہیں، افغانیوں کی خونریزی بند ہونی چاہیے ۔ قندوز کے ایک سکول ٹیچر نے کہا کہ وہ مستقبل کے بارے میں پرامید نہیں تاہم تشدد میں کمی کے حوالے سے امن مذاکرات ایک مثبت قدم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم قیام امن ہی نہیں بلکہ گزشتہ کچھ سالوں کے دوران حاصل ہونیوالی کامیابیوں کو بھی برقرار دیکھنا چاہتے ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ ان کا سکول بند ہو جائے مگر اس وقت امن ان کی اولین ترجیح ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے آج 12 ستمبر سے انٹرا افغان مذاکرات کا خیر مقدم کیا ہے ۔ وزیراعظم آفس میڈیا ونگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا آخر کار ہماری مشترکہ کوششیں کامیاب ہوئی ہیں وہ دن آگیا جس کا افغان عوام کو کئی سالوں سے انتظار تھا۔ انہوں نے کہا تقریباً 40 سال تک افغانیوں نے مسلسل تنازعات اور خون ریزی کا سامنا کیا ہے ۔ انہوں نے کہا پا کستان دہشت گردی کے واقعات، قیمتی جانوں کے نقصان اور بھاری معاشی نقصانات سے آگاہ ہے ،شروع دن سے میرا موقف تھا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں اور تنازعات کو صرف سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا پاکستان نے ان تھک کوششوں سے افغان امن عمل میں معاونت میں کلیدی کردار کیا ہے جس کے نتیجہ میں یہ وقت آن پہنچا ہے ۔ انہوں نے کہا ہم اپنی ذمہ داری پوری کرنے پر اطمینان محسوس کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا اب افغان قیادت پر منحصر ہے کہ وہ اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھائے ، مثبت انداز میں مل کر کام کرے اور ایک جامع اور پر امن حل کو یقینی بنائے ۔ افغانستان اور علاقائی امن و استحکام کے لئے افغان مفاہمتی عمل کی کامیابی ناگزیر ہے ۔ وزیراعظم نے کہا ہم امید کرتے ہیں تمام فریقین اپنی اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے مسائل کے خاتمہ کے لئے کردار ادا کریں گے اور افغانستان میں امن و استحکام کے مقصد کے حصول کی خواہش کو عملی جامہ پہنائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی جانب سے افغان عوام کی بھرپور معاونت اور یکجہتی جاری رکھے گا تاکہ امن و امان اور ترقی کے سفر کو یقینی بنایا جا سکے ۔دریں اثنائوزیر اعظم عمران خان نے کوئٹہ کا ایک روز ہ دورہ کیا ۔ وزیر اعظم کے ہمراہ وفاقی وزیر اسد عمر ، شبلی فراز ،ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل بھی تھے ۔ کوئٹہ ایئر پورٹ پرگورنر امان اللہ خان ، وزیراعلیٰ جام کمال خان ،صوبائی وزرا اور اعلیٰ حکام نے استقبال کیا ۔ بلوچستان کابینہ کے ممبران سے ملاقات میں عمران خان نے کہا ہم بلوچستان کے ہر علاقے خصوصاً جنوبی بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے ، ہماری حکومت کی اولین ترجیح پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود اور پسماندہ علاقوں کی ترقی و خوشحالی ہے ۔ وفاقی وزیر زبیدہ جلال، شبلی فراز، اسد عمر، وزیراعلیٰ جام کمال خان بھی ملاقات میں شریک تھے ۔وزیراعظم نے کہا بد قسمتی سے ماضی میں بلوچستان سے وعدے تو کئے گئے مگر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ بلوچستان کے لئے ہماری حکومت نے پی ایس ڈی پی میں سب سے زیادہ فنڈز مختص کئے جو حکومت کی بلوچستان سے وابستگی اور خلوص نیت سے کمٹمنٹ کی عکاسی ہے ۔ وزیراعظم نے کہا رقبے کے لحاظ سے بلوچستان سب سے بڑا صوبہ ہے یہاں ترقی کی بے پناہ صلاحیت اور مواقع موجود ہیں، بلوچستان میں ترقی کے حوالے سے ترجیحات مرتب کرنے کی ضرورت ہے ۔کچھی کینال سے زرعی ترقی کے بے پناہ امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کورونا وبا کی صورتحال میں بہتری آئی ہے مگر ہمیں مزید احتیاط کرنی ہے ،عنقریب وزیر منصوبہ بندی اسد عمر بلوچستان کا دورہ کریں گے اور جنوبی بلوچستان کی ترقی کے لئے سپیشل پیکیج مرتب کرنے کے حوالے سے مشاورت کریں گے ۔ وزیر اعلیٰ اور کابینہ اراکین نے بلوچستان کی ترقی و خوشحالی میں دلچسپی لینے پر وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم کی زیر صدارت بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، بحالی کے اقدامات، کورونا وبا کی صورتحال ، تدارک کے حوالے سے اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا۔ چیف سیکرٹری نے بارشوں کی صورتحال، جانی و مالی نقصانات، انفراسٹرکچر کی بحالی، عوام کو طبی سہولیات، راشن کی فراہمی اور ریلیف سرگرمیوں کے حوالے سے اقدامات پر بریفنگ دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مون سون کے اگست میں آغاز سے ہی صوبے میں ایمرجنسی نافذ کی گئی،پاک آرمی کی جانب سے ہیوی مشینری اور ریسکیو سپورٹ فراہم کی گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے سیلاب سے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور صوبائی حکومت کی جانب سے ریلیف اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے ڈیموں میں پانی کی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا صوبے میں نئے ڈیموں کی تعمیر سے زرعی شعبے میں ترقی کے بے پناہ امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔علاوہ ازیں عمران خان سے وزیراعلیٰ جام کمال خان نے ملاقات کی جس میں بلوچستان کی ترقی کے معاملات سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعلیٰ نے وزیراعظم کو صوبے کی ترقی کے لئے کئے گئے اقدامات اور امن وامان کی صورتحال پربریفنگ دی ۔وزیراعظم نے ترقیاتی پروگرام اور امن کے لئے اقدامات پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے کہا جام کمال کی کارکردگی قابل تعریف ہے ، وفاقی حکومت نے پہلے بھی بلوچستان کی ترقی کے لئے اقدامات کئے اور مستقبل میں بھی صوبائی حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون جار ی رہے گا ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.