پی پی ایل کا سرحدی دریافتوں میں نیا سنگِ میل،بلوچستان میں2009سے ابتک 13دریافتی کنوئیں کھودے
کوئٹہ: ملک میںہائےڈرو کاربن کے حامل معروف بیسنز میں آسان اور بڑی دریافتوںمیں کمی کی وجہ سے، پاکستان پےٹرولئےم لمےٹڈ (پی ی اےل ) نے اپنے ہائےڈرو کاربن کے ذخائر کو بڑھانے اور دریافتوں کے لئے نئی راہیں ہموار کرنے کے لئے خطرات سے گھرے لیکن امکانات کے حامل سرحدی علاقوںمیں دریافتی سرگرمیاں انجام دےنے کا چیلنج قبول کیا ہے۔ ان کوششوںکی بنیاد پر ، 2009سے اب تک پی پی اےل نے صرف بلوچستان میں ہی 13 دریافتی کنوئیں کھودے ہیں۔ پی پی ایل نے حال ہی میںقلات کے مرتفع پر مرگند بلاک، بلوچستان میں مورگندھ X-1 کنوئےںسے گیس کے ذخائر کی دریافت کے ساتھ ایک تاریخی سنگِ میل عبورکیا ہے۔یہ پاکستان میں ہونے والی مغربی ترین دریافت ہے جس نے مستقبل میں ایک نئے ذیلی بیسن میں دریافتوںکے لئے نئی راہ ہموار کی ہے۔ مورگندھ کی مزید گہری کھدائی کے نتیجے میں گیس کا حامل طویل کالم حاصل ہوا جو تقریباً 1 کلومیٹر ہے ۔یہ نئی دریافت سے پہلے کی گئی جانچ کے مقابلے میں زیادہ ذخائر کے امکانات کی نشاندہی کرتا ہے،جس کی تصدیق اپریزل کنوﺅں کی کھدائی کے بعد ہو سکے گی۔دریافت ہونے والا کالم اور میپ تقریباً1 ٹرلین کیوبک فیٹ (ٹی سی ایف) گیس کی نشاندہی کرتا ہے۔یہ غیر ملکی دریافتی و پیداواری(ای اینڈ پی) کمپنیوں کو سرحدی علاقوں میں تیل و گیس کی تلاش کے لئے سرمایہ کاری کے لئے بھی راستہ ہموار کرے گا۔جس سے پبلک سےکٹر کمپنیوں بشمول پی پی ایل کوسرحدی علاقوں میں دریافتی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کی کوششوں میں مدد ملے گی ۔پی پی اےل نے ہمیشہ نئے /مشکل علاقوں میںدریافتی سرگرمیوں میں پہل کرکے دیگرکمپنیوںکو بھی اس طرف مائل کیا ہے۔پی پی اےل نے 48 دریافتی بلاکس اور59 پیداواری فیلڈزاوردریافتوں ساتھ2018-2019 کے دوران کسی بھی سال میں ریکارڈ تعداد میں 11 دریافتیں کیں، ساتھ ہی اگلے مالی سال میں مزید دو دریافتیںہوئےں۔ اس کے ساتھ 20 2019-20 کے دوران کمپنی نے ذخائر کی تجدید کی شرح 110 فیصدحاصل کی۔پی پی اےل کے ایم ڈی و سی ای او معین رضاخان نے بتایا کہ” ای اینڈ پی کاروبار زیادہ لاگت، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور خطرات سے بھرپور ہے جس میں کام کے آغازسے کھدائی اور دریافت و پیداوار کے درمیان طویل عرصہ درکار ہوتا ہے، خصوصا ًگیس کے حوالے سے ےہی مشکلات اور چیلنجز پہاڑی سلسلے والے سرحدی علاقوں میں کی جانے والی دریافتی سرگرمیوں کی صورت میں گئی گنا بڑھ جاتے ہیں، جہاں رسائی، سےکیوریٹی کے مسائل اور بنیادی ڈھانچے کی کمی جیسی بڑی رکاوٹیں ہیں۔ مورگندھ میں ہماری کامیابی ہمارے عزم کی ترجمان ہے۔”معین رضا خان اپنے کام کو واضح طور پر جانتے ہیں۔ پٹرولئےم کی دریافت کے اےک کہنہ مشق پروفیشنل ہونے کی حیثیت سے انہوں نے ملک کے ای اےنڈ پی شعبے میںاہم کردار ادا کیا ہے۔ اپنے37 سال سے زائد کے کئےرئےر کے دوران، انہوں نے 30 سے زائد دریافتوں کے ذرےعے تقریباً 5.3 ٹی سی ایف گیس دریافت کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جو پاکستان میں دریافت ہونے والی گیس کا 9 فیصدبنتا ہے۔یہ 2009کی بات ہے جب پی پی ای ایل کی حالیہ کامیاب کوششوں کا اس وقت سلسلہ شروع ہوا جب اُس وقت کے جنرل مینیجر ایکسپلوریشن معین رضا خان کی قیادت میں پی پی اےل نے 14 بلاکس حاصل کئے اور 2013 کی بولی میں 11 بلاکس کا اضافہ کیا، اس طرح48000 مربع کلومیٹر کادریافتی رقبہ حاصل کر لیا۔معین رضاخان کا کہنا ہے کہ” پی پی ایل نے 2012سے اب تک آپریٹڈ بلاکس میں 63دریافتی کنوئےں کھودے ، جس کے نتیجے میں 22 دریافتیں ہوئیں۔ان میں کامیابی کا تناسب 35 فیصد رہا۔جس سے تقریباً 2.764 ٹی سی ایف گیس اور لگ بھگ127 ایم بی بی ایل تیل حاصل ہوئے۔”ان میں سے صرف 11 دریافتیں 2009 میں حاصل کئے گئے گمبٹ ساﺅتھ بلاک میں ہوئیں۔ جو اس وقت تین پیداواری فیلڈز سے ےومیہ 100 بی سی ایف سے زائد گیس ، 1100 بیرل تیل اور 15 ملین ٹن اےل پی جی کی پیدا واردے رہا ہے۔ پی پی اےل نے پرانی فیلڈ ز سے پیداوار میںکمی کے باوجود ےومیہ تقریباً 1 بی سی ایف ای پیداوار کو برقرار رکھا ہے جبکہ اپنی مالی کارکردگی کوبہتر بناتے ہوئے 2018-2019 کے دوران کمپنی کی تاریخ کا سب سے زیادہ 62 بلین روپے کا منافع حاصل کیا ہے ۔کمپنی کے آپریشنز کے نتیجے میںغیر ملکی زر مبادلہ میں بھی خاطر خواہ بچت ہوئی ہے، ساتھ ہی کمپنی نے قومی خزانے میں بھی خاصا حصہ ڈالا ہے جو 2018-2019 کے دوران بالترتیب 3.8 بلین امریکی ڈالر اور65 بلین روپے رہا۔معین رضا خان نے کہا کہ “گزشتہ دو سال خاص طور پر چیلنجنگ رہے ہیں ، جس میں ہم نے اپنی آپریشنل ترجیحات کو بہتر بنایا ہے تاکہ ہم سرحدی علاقوں میں دریافتی کوششوں اور مائننگ کے شعبے میں بولان مائےننگ انٹر پرائزز کے ذرےعے کاروبار کو تنوع دینے پرزیادہ توجہ دے سکیں۔جس کے لئے کئی منصوبے تیاری کے مرحلے میں ہیں۔ مزید یہ کہ ہم نے کمپنی کی کارکردگی اور صلاحیت کو بہتر بنانے کے لئے ادارہ جاتی اور انسانی وسائل سے متعلق درپیش رکاوٹوں کوبھی دور کیا ہے اور انتظامیہ کے مابین ربط میں مزیدمضبوطی کو ےقینی بنایا ہے ۔©”