اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو پیش ہونے کا حکم دے دیا

0 37

اسلام آباد:  اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے حکم دیا کہ نواز شریف سرنڈر کر کے 10 ستمبر کو عدالت پیش ہوں۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ سابق وزیراعظم کو ابھی مفرور قرار نہیں دے رہے، انہیں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہیں۔

جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے استفسار کیا کہ اس وقت نواز شریف کی حیثیت کیا ہے ؟ کیا وہ ضمانت پر ہیں یا نہیں ؟ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے بتایا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی میرٹ پر ضمانت منظور ہوئی، وہ علاج کیلیے بیرون ملک گئے، واپس نہ آنے کی وجوہات درخواست میں لکھی ہیں، پنجاب حکومت نے نواز شریف کی درخواست ضمانت مسترد کر دی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ کیا ضمانت ختم ہونے کے بعد نواز شریف کو عدالت میں سرنڈر نہیں کرنا چاہیے تھا ؟ اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف کا کیس منفرد ہے، سرنڈر نہ کرنے پر عدالت کو تفصیلی طور پر آگاہ کروں گا، نواز شریف کو جو بیماریاں تھیں، اس کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں۔

عدالت نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ کی سزا مختصر مدت کے لیے معطل کی، کیا لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے آرڈر کو سپرسیڈ کیا جاسکتا ہے ؟ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کا حکم صرف نام ای سی ایل سے نام نکالنے کا تھا، اگر وفاقی حکومت نے بھی ضمانت سے متعلق پنجاب حکومت کا فیصلہ برقرار رکھا تو نواز شریف کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ وکیل خواجہ حارث نے تسلیم کیا کہ نواز شریف کے پاس اِس وقت کوئی ضمانت نہیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ذمہ داری آپ کی ہے کہ آپ بتائیں نواز شریف کیوں مفرور ہیں ؟ نواز شریف کا علاج ہو رہا ہے یا نہیں، ریکارڈ پر ایسی کوئی دستاویز نہیں ؟ انہیں اپیل کی سماعت کے لیے عدالت پیش ہونا پڑے گا ، اگر نواز شریف مفرور ہیں تو انہیں الگ 3 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے، ٹرائل یا اپیل میں پیشی سے فرار ہونا بھی جرم ہے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا علاج جاری ہے جب علاج مکمل ہوگا واپس آئیں گے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت کا نواز شریف کی صحت پر کیا موقف ہے ؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ انہیں کوئی ہدایات نہیں ملیں۔ نیب پراسیکیوٹر نے نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم کی حاضری سے استثنی کی درخواست ناقابل سماعت ہے، پنجاب حکومت کا نواز شریف کی ضمانت مسترد کرنے کا حکم نامہ کہیں چیلنج نہیں ہوا، جج ارشد ملک ویڈیو سے متعلق درخواست پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ فی الحال جج ارشد ملک ویڈیو پر دلائل نہ دیں۔

عدالت نے کہا کہ نواز شریف کو فی الحال مفرور قرار نہیں دے رہے، ان کی حاضری سے استثنی کی درخواست پر مناسب حکم جاری کریں گے۔ عدالت نے وفاقی حکومت کو اپنا موقف پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کا کیس نواز شریف سے الگ کر دیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے موقع پر مریم نواز نے لیگی کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اپنا جو نقصان 5 سال میں کرنا تھا وہ 2 سال میں ہی کر بیٹھی، ہم نواز شریف کی ہدایت پر عمل کریں گے، میرا نہیں خیال نواز شریف اے پی سی میں جانے سے منع کریں گے، ہم آل پارٹیز کانفرنس میں جائیں گے، مکافات عمل تو شروع ہونا ہی تھا، ہر چیزکا اپنا ایک وقت ہوتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.