بزدار شراب کیس، سرکاری فائلیں کچھ الگ داستان ہی پیش کرتی ہیں
اسلام آباد وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل ایکسائز سے کہا تھا کہ لاہور کے ہوٹل کو شراب کا لائسنس دیدیا جائے لیکن وزیر اعلیٰ آفس اس معاملے پر سرکاری فائل دیکھنے سے گریزاں تھا۔
سرکاری دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے دفتر کی جانب سے غیر معمولی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا گیا اور تین مرتبہ اس وقت کے سیکریٹری ایکسائز کی جانب سے ارسال کی گئی سمریوں کو دیکھا گیا اور نہ ہی ان پر کوئی تبصرہ کیا گیا۔
ان سمریوں میں لاہور کے ہوٹل کو شراب کا لائسنس دینے کیلئے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی اجازت طلب کی گئی تھی۔ ہر مرتبہ یہ معاملہ ایکسائز ڈپارٹمنٹ کو واپس بھیجا گیا حالانکہ ڈپارٹمنٹ کی طرف سے اصرار کیا جاتا رہا کہ یہ حساس معاملہ ہے اور ماضی کی مثالوں کو دیکھتے ہوئے لائسنس صرف وزیراعلیٰ کی اجازت سے ہی جاری کیا جا سکتا ہے۔
نتیجتاً ڈی جی ایکسائز نے مبینہ طور پر وزیراعلیٰ کی زبانی ہدایات پر لائسنس جاری کر دیا لیکن اس کا سرکاری فائلوں میں ذرہ برابر بھی ذکر موجود نہیں کہ آیا اس معاملے میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار یا ان کا دفتر ملوث ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب اس معاملے میں ملوث ہونے سے انکار کرتے ہیں، کیس کی تحقیقات نیب کر رہا ہے۔ تاہم، اس وقت کے ڈی جی ایکسائز کا اصرار ہے کہ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کے دبائو میں لائسنس جاری کیا۔ آزاد ذرائع نے دی نیوز سے بات چیت میں تصدیق کی ہے کہ وزیراعلیٰ نے ڈی ی سے لائسنس جاری کرنے کا کہا تھا۔
لیکن تحریری طور پر ایسا کچھ موجود نہیں جس سے یہ بات ثابت ہو۔ تاہم، یہ بات بہت ہی دلچسپ ہے کہ نہ صرف چیف سیکریٹری نے ایکسائز ڈپارٹمنٹ کی وزیراعلیٰ کو بھیجی ہوئی سمری واپس کر دی بلکہ بعد میں جب سیکریٹری ایکسائز نے نئی سمری بھجوائی اور براہِ راست وزیراعلیٰ آفس بھجوائی تو وہاں سے اسے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے واپس بھیج دیا گیا کہ یہ سمری وزیراعلیٰ کو کیوں بھیجی گئی ہے۔
دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ 20؍ دسمبر 2018ء کو اس وقت کے سیکریٹری ایکسائز نے وزیراعلیٰ کی منظوری کیلئے پہلی سمری بھجوائی۔ سمری میں معاملے کی تفصیلات موجود تھیں، اصولوں اور ضابطوں کا ذکر تھا، ماضی کی مثالیں بھی بتائی گئی تھیں اور اصرار کیا گیا تھا کہ حد آرڈر 1979ء کے نفاذ کے بعد حکومت نے ایسے لائسنس کے اجراء کے معاملے میں بہت سخت رویہ اختیار کر رکھا ہے کیونکہ یہ معاملہ نہ صرف حساس ہے بلکہ اس سے ثقافتی پس منظر بھی جڑا ہے۔
سمری میں اس بات کا بھی ذکر تھا کہ اگرچہ ڈی جی ایکسائز ایسا لائسنس جاری کرنے کے مجاز ہیں لیکن معاملے کی حساسیت اور اہمیت کی وجہ سے وزیراعلیٰ کی اصولی منظوری کی ضرورت ہے۔
ایسی صورتحال میں سیکریٹری ایکسائز نے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ وہ اصولی طور پر تمام قانونی اور ضابطے کی کارروائی کی تکمیل کے بعد میسرز یونی کورن پریسٹیج لمیٹڈ (سوئس رائل لاہور لگژری ہوٹل، علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئر پورٹ لاہور) کو ایل ٹوُ فارم پر لائسنس جاری کرنے کی منظوری دیں۔
یہ سمری چیف سیکریٹری کے ذریعے وزیراعلیٰ آفس کو بھجوائی گئی، جہاں سے اسے واپس ایکسائز ڈپارٹمنٹ کو یہ نوٹ لگا کر بھیج دیا گیا کہ ’’سی ایس (چیف سیکریٹری) نے فائل دیکھ لی ہے اور نشاندہی کی ہے کہ یہ معاملہ قانون اور پالیسی کے مطابق مناسب فورم پر حل کیا جائے۔
قانون کے مطابق کو ئی اور ضروری اقدام ہو تو وہ بھی کرلیں۔ دو ہفتوں بعد 8؍ جنوری 2019ء کو اس وقت کے ڈی جی ایکسائز نے سیکریٹری ایکسائز کو یہ کیس بھیجا جس میں وزیراعلیٰ سے منظوری مانگی گئی تھی۔