بلوچستان ہائیکورٹ کی دودھ فی لیٹر 100روپے فروخت کرنیکی ہدایت

0 27

جب تک سرکاری سطح پر نیا نرخنامہ جاری نہیں کیا جاتا 27مارچ2020کے نرخنامے پر عمل کیا جائے‘چیف جسٹس جمال خان مندوخیل

بلوچستان ہائیکورٹ نے ہدایت کی ہے کہ جب تک سیکرٹری انڈسٹریز کی جانب سے دودھ کی قیمتوں کا تعین نہیں ہو تا ڈیری فارمز ایسوسی ایشن اور ملک شاپس مالکان دودھ 27مارچ2020کے نرخنامے کے مطابق فروخت کریں ۔دودھ دہی کی قیمتوں کا تعین کرنا انتظامیہ کاکام ہے عدالت کا نہیں ،میڈیا اور سول سوسائٹی کے ذریعے بائیکاٹ کی مہم چلائی جائے تو خود بخود قیمت نیچے آجائے گی ۔دودھ دہی کی نئی قیمتوں سے متعلق سیکرٹری انڈسٹریز 10دن کے اندر اندر اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں ۔بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس عبدالحمید بلوچ پرمشتمل دو رکنی بینچ نے روز نامہ جنگ کوئٹہ کے رپورٹر و صحافی نسیم حمید یوسفزئی کی جانب سے ممتاز قانون دان جمیل آغا ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر آئینی پٹیشن کی سماعت کے دوران کہا کہ ہمارا پورا سسٹم کولیپس ہو رہا ہے حکومتی ادارے ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔سماعت شروع ہوئی تو درخواست گزار نسیم حمید یوسفزئی کے وکیل جمیل آغا ایڈووکیٹ نے عدالت عالیہ کوبتایاکہ دودھ فی کلو سرکاری نرخ 95روپے ڈیری فارمز اور ملک شاپس مالکان کیلئے100روپے فی لیٹر مقرر ہے جبکہ دکانداروں کی جانب سے 110روپے فی لیٹر فروخت کیا جا رہا ہے اور اب ڈیری فارمز ایسوسی ایشن کی جانب سے دوبارہ خود ساختہ اضافے کے بعد دودھ فی لیٹر 120سے 125روپے مقرر کیا جا رہا ہے کوئٹہ شہر میں پرائس کنٹرول کمیٹی موجو د ہے جس کے چیئرمین ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ہیں جس پر عدالت نے ڈپٹی کمشنر اورنگزیب بادینی اور میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے ایڈ منسٹریٹر طارق جاوید مینگل کو کو طلب کیا، ڈی سی کوئٹہ اورنگزیب بادینی نے عدالت میں بتایاکہ نرخنامے کا تعین کرنا ہمارا کام نہیں بلکہ سیکرٹری انڈسٹریز کا کام ہے اور اس حوالے سے کمیٹی کام کر رہی ہے جونہی سیکرٹری انڈسٹری نے دودھ سے متعلق نرخنامہ دیا تو ہم اس پر عملدرآمد کرائیں گے ڈی سی کوئٹہ کا کہنا تھا کہ منافع ڈیری مالکان کما رہے ہیں لیکن جب گرفتاریاں اور جرمانے ہوتے ہیں تو ملک شاپس مالکان اس کی زد میں آتے ہیں اور ڈیری مالکان بچ نکلتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ اب بھی جو نرخنامہ موجود ہے وہ مناسب ہے ۔صحافی نسیم حمید یوسفزئی نے کہا کہ حکومتی اداروں کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے عدالت میں کیس دائر کرنے پر مجبور ہوئے اگر چہ نرخوں کا تعین عدالتی ذمہ داری نہیں لیکن عدالت انتظامیہ کو گائیڈ لائن جاری کرے اور آئندہ ایسا میکنزم ترتیب دیا جائے جس کی روشنی میں قیمتیں مقرر کی جائیں سول سوسائٹی کے نمائندے محمد اسلم رند اور نذر بڑیچ نے عدالت کو بتایا کہ سرکاری ڈیری فارم کی جانب سے گائے کا دودھ فی لیٹر80روپے مقرر ہے جبکہ پورے شہر میں گائے اور بھینس کا دودھ مکس کر کے 110روپے فروخت کیا جا رہا ہے اور فروخت شدہ دودھ کی زیادہ مقدار گائے کے دودھ کی ہے لہذا سرکاری ڈیری فارم کے نرخوں کی روشنی میں دودھ کا تعین بہتر انداز میں کیا جا سکتا ہے جس پرچیف جسٹس نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو ہدایت کی کہ دودھ دہی کی قیمتوں سے متعلق 27مارچ2020ء کوپرائس کنٹرول کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن پرعملدرآمد کرائیں سماعت کے دوران عدالت نے سیکرٹری انڈسٹریزکوہدایت کی دودھ دہی کی نئی قیمتوں کے تعین سے متعلق 10دن کے اندر اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں ۔بعدازاں عدالت نے سیکرٹری انڈسٹریز اور سیکرٹری لائیو اسٹاک کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت 10دن بعد تک کیلئے ملتوی کر دی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.