چمن بارڈر بندش کےخلاف احتجاجی دھرنا 56ویں روز بھی جاری رہا
چمن: پاک پاک افغان چمن بارڈر بندش کے خلاف آل پارٹیز تاجراتحاد کی جانب سےاحتجاجی دھرنا 56ویں روز بھی جاری رہا بارڈر کے بندش کے خلاف آل پارٹیز تاجران اور لغڑی اتحاد کی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی ریلی کے شرکا نے پاک افغان بارڈر سے ڈپٹی کمشنر آفس تک مارچ کیا بعد میں ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے شاہراہ بلاک کر کے دھرنا دیا دھرنا مقررین میں اے این پی کے تحصیل صدر منور خان انجمن ضلعی صدر صادق اچکزئیقاری عطا اللہ مسلم ملابہرام نعیم خان منان درانی عبدالولی سالار و دیگر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاک افغان بارڈر کی بندش کو پشتون عوام کا معاشی قتل عام سمجھتے ہیں چمن بارڈر کو باقی بارڈر کی طرح جلد کھولا جائے ریلی کے شرکا نے حکومت کے خلاف بھی شدید نعرے بازی کی انہوں نے کہاکہ پاک افغان بارڈر کے کھولنے تک احتجاج جاری رہے گا سینکڑوں افراد نے ریلی میں شرکت کی مقررین نے مزید کہاکہ پاک افغان بارڈر سے لاکھوں افراد کا روز گار وابستہ ہے حکومت کو اپنے عوام کے بارے میں سوچنا ہوگا انہوں نے کہاکہ کوئٹہ چمن شاہراہ پر غیر ضروری چیک پوسٹوں کو ختم کیا جائے ان چیک پوسٹوں پر چیکنگ کے نام پر عوام کو بے عزت کیا جاتا ہے دھرنے کی وجہ سے ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے شاہراہ بلاک ہونے سے عام عوام کو مشکلات کا سامنا رہا ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے احتجاج ریکارڈ کرانے بعد مظاہرین نے ایف سی ہیڈ کوارٹر کے سامنےبھی پاک افغان بارڈر کی بندش کے خلاف احتجاج کیاایف سی ہیڈ کوارٹر کے سامنے احتجاج ریکارڈ کراتے وقت ایف سی چمن سکاوٹس کی جانب سے کرنل سلمان اور دھرنا ممبران کے مابین کامیاب مذاکرات ہوئے جس میں ایف سی میں گرفتار مسافروں کی رہائی اور دونوں طرف پھنسے مسافروں کے آنے جانے پر اتفاق کیا گیا۔