قومی ٹیم کو انگلینڈ بھیجنے کا فیصلہ سخت: کرکٹ اور کورونا ایک ساتھ چلیں گے: وسیم خان

0 34

کراچی: چیف ایگزیکٹو پاکستان کرکٹ بورڈ وسیم خان کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم کو انگلینڈ بھیجنے کا فیصلہ سخت ضرور تھا مگر یہ بات پیش نظر رکھی جائے کہ کرکٹ اور کورونا اب ایک ساتھ چلیں گے ،عالمی کرکٹ کی بحالی کو اپنے ٹریک پر قائم رکھنے کیلئے لازمی ہے کہ میچز کا سلسلہ جاری رکھا جائے ،گرین شرٹس کو اسی مقصد کے تحت دورے پر بھیجنے کا فیصلہ کیا،ویسٹ انڈین سائیڈ انگلش ٹور پر پہنچی تو کورونا وائرس کی صورتحال کافی خراب تھی،پاکستان کے متعلق غیر ملکی ٹیموں کی تصورات بدل رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے پاکستانی ٹیم کو انگلینڈ بھیجنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی صورتحال میں پاکستانی ٹیم کو انگلینڈ کے دورے پر بھیجنا ایک سخت فیصلہ تھا لیکن اس پہلو کو نظر انداز نہ کیا جائے کہ دیگر شعبوں کی طرح کرکٹ اور کورونا ایک ساتھ چلیں گے ۔انہوں نے تسلیم کیا کہ جب دورے سے قبل کئی کھلاڑیوں کے کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آنا شروع ہوئے تو یہ صورتحال کافی پریشان کن تھی مگر اس سوچ کے ساتھ آگے بڑھے کہ عالمی کرکٹ کی بحالی کو اپنے ٹریک پر قائم رکھنے کیلئے لازمی ہے کہ میچوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے اور گرین شرٹس کو اسی مقصد کے تحت دورے پر بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔وسیم خان کا کہنا تھا کہ کرکٹ اور کورونا ابھی کچھ عرصے ایک ساتھ چلیں گے لہٰذا پاکستانی ٹیم کو انگلینڈ روانہ کرنے کے پس پشت اس کے سوا اور کوئی مقصد نہیں تھا کہ گلوبل کرکٹ کے اجراء میں اپنا کردار ادا کیا جائے اور پھر سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب پی سی بی سے انگلینڈ ٹور کے متعلق اس قسم کے سوالات کئے جاتے ہیں تو اسی نوعیت کے سوالات کا سامنا ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ کو بھی کرنا پڑتا ہے جن کی ٹیم انگلینڈ میں شیڈول اپنے میچز کھیلنے میں مصروف ہے جس نے اس دوران انگلینڈ جانے کا فیصلہ کیا جب وہاں کورونا کی صورتحال کافی خراب تھی اور اسی وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی مثبت فیصلے کرنے کا حوصلہ ملا ورنہ دوسری صورت میں ایسا کرنا ممکن نہ ہوتا۔ چیف ایگزیکٹو پی سی بی کا زور دیتے ہوئے کہنا تھا کہ انہوں نے تمام فیصلے سیکیورٹی معاملات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کئے جن کی کورونا وائرس کے مقابلے میں ڈائنامکس یکسر مختلف ہیں کیونکہ انہیں ای سی بی کی جانب سے یقین دلایا گیا تھا کہ کھلاڑیوں کی صحت اور حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ سے متعلق وسیم خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے متعلق غیر ملکی ٹیموں کے تصورات بدلنا شروع ہو چکے ہیں اور ان کی بھی یہی سوچ ہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ میچز کا تواتر کے ساتھ انعقاد ہونا چاہئے اور توقع یہی ہے کہ حالات کی بہتری کے ساتھ پاکستان میں ایک بار پھر غیر ملکی ٹیموں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو جائے گا کیونکہ اس حوالے سے کئی ممالک کے کرکٹ بورڈز سے مسلسل رابطہ ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.