بنگلہ دیش کا ایک تہائی حصہ مون سون بارشوں کے بعد زیر آب آگیا

0 45

ڈھاکا: جنوبی ایشیا میں مون سون کے سیلاب سے تقریبا چار لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں، حکام نے بتایا ہے کہ ایک دہائی کی ریکارڈ طوفانی بارشوں سے بنگلہ دیش کا ایک تہائی حصہ زیر آب آگیا ہے۔بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مون سون، جو عام طور پر جون سے ستمبر تک جاری رہتی ہے، برصغیر پاک و ہند کی معیشت کے لہے بہت اہم ہے تاہم اس سے ہر سال اس خطے میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں اور تباہی بھی ہوتی ہے۔بنگلہ دیش کے سیلاب کی پیش گوئی اور انتباہی مرکز کے سربراہ عارف الزمان بھویان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ‘یہ ایک دہائی کا بدترین سیلاب ہے’۔شدید بارشوں کی وجہ سے دو اہم ہمالیائی دریا متاثر ہوئے ہیں، برہم پتر اور گنگا، جو بھارت اور بنگلہ دیش سے گزرتے ہیں۔عارف الزمان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے متاثرہ بنگلہ دیش کا ایک تہائی حصہ زیر آب آگیا ہے اور گاں کے گھروں اور سڑکوں کے ساتھ کم از کم 15 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ضلعی انتظامیہ فاروق احمد نے اے ایف پی کو بتایا کہ شمال وسطی بنگلہ دیش میں دریائے برہم پتر معمول سے 40 سینٹی میٹر اونچی ہے اور جس سے اس کے پھٹنے کا خطرہ تھا۔حکام نے بتایا کہ زیادہ تر دیہاتی اپنے سیلاب سے متاثرہ گھروں کے قریب ہی رہنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم تقریبا 15 ہزار شدید متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کرگئے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.