انجمن تاجران بلوچستان و اتحادی تنظیموں نے دھرنا موخر کردیا

0 33

کوئٹہ :  انجمن تاجران بلوچستان و اتحادی تنظیموں نے بلوچستان عوامی پارٹی کے جنرل سیکرٹری و سینیٹر منظور احمد کاکڑ کی یقین دہانی پر دھرنا موخر کردیا ، مطالبات پر 24گھنٹے کے دوران عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں آج بروز منگل ایک مرتبہ پھر بلوچستان اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا جائے گا ، مقررین کا خطاب۔ تفصیلات کے مطابق پیر کے روز انجمن تاجران بلوچستان و اتحادی تنظیموں کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق میں میٹروپولیٹن کاپوریشن کوئٹہ کے سبزہ زار سے صدر انجمن تاجران بلوچستان و صدر آل بلوچستان ریسٹورنٹ اینڈ ہوٹل ایسوسی ایشن رحیم آغا نے انجمن تاجران بلوچستان کے جنرل سیکرٹری اللہ داد ترین ، پلاسٹک ایسوسی ایشن کے حاجی فیض اللہ ، شفیع آغا ، نقیب اللہ ، لالئی ماما ، ضیاء الحق ، مٹن اینڈ بیف ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری سرمد صدیق کے زیر قیادت میں احتجاجی ریلی نکالی گئی ۔ ریلی کے شرکاء نے مختلف شاہراہوں کا گشت کیا اور عدالت روڈ پر احتجاجی دھرنا دیا گیا ۔ اس موقع پر صدر انجمن تاجران بلوچستان سید رحیم آغا ودیگر کا کہنا تھا کہ ہم ایک عرصے سے شادی ہالوں اور ریسٹورنٹس کو ایس او پیز کے تحت کھولنے کا مطالبہ کررہے ہیں مگر اجازت ملنے کی بجائے آئے روز ریسٹورنٹ مالکان کو گرفتار کے بعد ہتھکڑیاں لگا کر جرائم پیشہ افراد کی طرح عدالتوں میں پیش کیا جاتا ہے جو قابل مذمت ہے پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے ریسٹورنٹ مالکان کے ساتھ ہتک آمیز رویہ کے باعث تاجروں کی عزت نفس مجروح ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حالانکہ ائیرپورٹ روڈ پر واقع ریسٹورنٹس پکنک پوائنٹس کی طرح جہاں ایس او پیز پر آسانی سے عمل درآمد کرایا جاسکتا ہے ایسا کرنے کی بجائے ہمیں مجبوراً سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کیا جارہا ہے ۔ مقررین نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ کورونا وائرس صرف شادی ہالوں اور ریسٹورنٹس سے پھیلتا ہے ۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر اپنے مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریسٹورنٹس میں ایس او پیز کے تحت کھانا کھانے ، شادی ہالوں کو فوری طور پر ایس او پیز کے تحت کھولنے ، عید الضحیٰ کے سیزن کو مد نظر رکھتے ہوئے 15جولائی سے تاجروں کو کم از کم رات 10بجے تک دکانیں کھولنے ، پولیس اور مجسٹریٹس کی جانب سے دکانوں ، ریسٹورنٹس ، تندور ، بیف اینڈ مٹن شاپس پر بلاوجہ چھاپوں کا سلسلہ روکنے ، صوبائی مذاکراتی کمیٹی کے وعدوں کے مطابق دکانوں اور ریسٹورنٹس کے 3ماہ کی گیس کے بلوں کو معاف کرنے اور روٹی و گوشت کے نرخنامے مقرر کرنے کے لئے تجزیہ کمیٹی کے ذریعے تجزیہ کے بعد مناسب ریٹ مقرر کئے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف فلائٹس آپریشن اور ٹرانسپورٹس کو اجازت دیدی گئی ہے لیکن دوسری جانب ریسٹورنٹس میں لوگوں کو بیٹھنے نہیں دیا جارہا جس کی وجہ سے یہ شعبہ بری طرح تباہی سے دوچار ہو کر رہ گیا ۔ہمیں کوئٹہ ضلعی انتظامیہ کی تاجر دشمن پالیسی منظور نہیں اسی لئے ہم میدان عمل میں نکلے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 4ماہ سے شادی ہالز کی بندش کے باعث مالکان کو کروڑوں روپے نقصان کا سامنا ہے ایک طرف تعلیمی اداروں کو کھولنے کی بات کی جارہی ہے تو دوسری جانب شادی ہالز اور ریسٹورنٹس بند ہیں اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تواحتجا ج کو مزید وسعت دی جا ئے گی ۔ اس موقع پر سینیٹر و بلوچستان عوامی پارٹی کے جنرل سیکرٹری منظور احمد کاکڑ نے دھرنے میں شرکت کی اور دھرنے کے شرکاء کے ساتھ مذاکرات کرتے ہوئے ان کے مطالبات کے حل کی یقین دہانی کرائی جس پر انجمن تاجران بلوچستان و اتحادی تنظیموں نے کے عہدیداروں نے دھرنا موخر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگر 24گھنٹے کے دوران مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو14جولائی منگل ایک مرتبہ پھر بلوچستان اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.