انصاف کے ادارے نے منصف کے خلاف فیصلہ دیکر اچھی مثال قائم کی، حافظ حسین احمد

کوئٹہ/کراچی: جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی ترجمان و سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ انصاف کے ادارے نے منصف کے خلاف فیصلہ دیکر اچھی مثال قائم کی ہے لیکن اس یکطرفہ فیصلے سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں، ماضی میں جسٹس قیوم جیسے لوگوں کو ٹیلی فون پر ہدایت دی جاتی رہی جو دنیا کے سامنے آچکی ہے، ججز کا آن لائن کنٹرول نئی بات نہیں ہے ، منصف کو سزادینے کے ساتھ ایک فریق کو تو اپنے کئے کی سزا مل گئی اگر جج کے انکشافات پر انہیں سزا دی جاسکتی ہے تو جن کے متعلق انکشاف کیا جن ملاقاتوں کا ذکر کیا شواہد پیش کئے ملاقات کرنے والوں کے نام اور فیصلے کے حوالے سے رشوت کی باتیں کیں تو جنہوں نے ویڈیو سامنے لائی تو کیا صرف ارشد ملک کے خلاف فیصلے سے انصاف کے تمام تقاضے پورے ہوگئے ہیں؟ہفتہ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فیصلہ خوش آئند ہے بشرطیہ کہ اس میں شامل دیگر کرداروں کے حوالے سے بھی انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جائے، تحریک انصاف کا نعرہ اور منشور یہی تھا کہ انصاف سب کے لیے ہوگا سزا سب کو ملے گی اور فیصلے چھوٹے بڑے کو دیکھے بغیر کئے جائیں گے لیکن لگتا ہے کہ جو زور آور ہے طاقتور ہے زردار ہے وہ ہر موقع پر بچ جاتا ہے بلکہ اسے بچایا جاتا ہے، حافظ حسین احمدنے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جج ارشد ملک کے فیصلے کے بعد جہاں تک میاں نواز شریف کی بیگناہی کا تعلق ہے اس کا فیصلہ عدلیہ ہی کرسکتی ہے ، ارشد ملک کی اگر یہ باتیں ٹھیک ہے کہ نواز شریف کے بیٹوں نے ان سے مدینہ منورہ میں ملاقات کی ہے تو ان تمام چیزوں کی تحقیقات ہونی چاہئے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو، ہم چاہتے ہیں کہ انصاف سب کے ساتھ ہو چاہئے وہ نواز شریف ہو ، ارشد ملک ہو یا پھر کوئی غریب آدمی ہو اس لیے تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھا جائے لیکن بدقسمتی سے ہمیں بعض فیصلوں میں یہ نظر نہیں آتے۔




