بجٹ عوامی نہیں بلکہ یہ سرداروں‘نوابوں ‘بیوروکریسی اور وزراء کا بجٹ ہے‘کن بلوچستان اسمبلی حاجی میر زابد علی ریکی
کو ئٹہ: رکن بلوچستان اسمبلی حاجی میر زابد علی ریکی نے مالی سال2020-21بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ عوامی نہیں بلکہ یہ سرداروں‘نوابوں ‘بیوروکریسی اور وزراء کا بجٹ ہے، اس میں منتخب نمائندوں کو مکمل طور پر نظر انداز جبکہ غیر منتخب لوگوں کو بجٹ میں نوازاگیا ہے جو کہ سراسر انصافی و زیادتی ہے ‘یہ بات انہوں نے ملنے والی مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کہی‘انہوں نے کہاکہ ہم اپنے حلقوں میں نہیں جاسکتے کیونکہ وہاں پر کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا ہے ظلم کی انتہاء تو یہاں تک ہے کہ محکمانہ اسکیموں میں واشک جیسے پسماندہ ضلع کو مکمل طور پر نظر انداز کیاگیا ہے حالانکہ ورلڈ بینک کے ایک سروے کے مطابق ضلع واشک پسماندگی کے حوالے سے بلوچستان کا سرفہرست ضلع ہے ضلع واشک میں تمام تر بنیادی سہولیات سے محروم ہے عوام کو پینے کے صاف پانی تک میسر نہیں ہے بچے اور بچیاں تعلیم حاصل کرنے کیلئے سکول و کالج نہیں بچے پڑھنے کی بجائے درپدر کے ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیںاسی طرح صحت کے شعبے میں بھی واشک تمام تر سہولیات سے محروم ہیں بار بار تعلیم اور صحت کے حوالے سے توجہ دلانے کے باوجود آج تک حکومت کی طرف مایوسی کے سواء کچھ نہیں ملا پچھلے پی ایس ڈی پی کی طرح مال سالی2020-21کے بجٹ میں بھی واشک کو مکمل نظر انداز کیاگیا ہے جو کہ ناقابل قبول ہے انہوں نے کہاکہ حکومت اپوزیشن کے حلقوں کے ساتھ ظلم کررہی ہے حکمران کم از کم اپوزیشن ارکان کا مذاق تو نہ اڑائے اپوزیشن کے حلقوں میں مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی اپوزیشن پی ایس ڈی پی کو لیکر عدالت جائے گی۔