کوئٹہ میں آن لائن کلاسز کے خلاف مظاہرہ کرنے والے طلبا و طالبات کے گرفتاریوں کے خلاف بلوچ طلبا نوشکی کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ

0 41

نوشکی: کوئٹہ میں آن لائن کلاسز کے خلاف مظاہرہ کرنے والے طلبا و طالبات کے گرفتاریوں کے خلاف بلوچ طلبا نوشکی کی جانب سے نوشکی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ، مظاہرین نے گرفتاریوں کے خلاف شدید نعرہ بازی کی ، مظاہرین ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن کے احتجاجی کلمات درج تھے اس موقع پر اسٹوڈنٹس رہنما صدام بلوچ، ہارون بلوچ، امدادبلوچ،نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری خیر بخش بلوچ، بلوچستان نیشنل پارٹی نوشکی کے ضلعی صدر عطا اللہ مینگل ، بی ایس او پجار کے حق نواز شاہ، جمعیت علما اسلام کے حافظ عبداللہ گورگیج، اسٹوڈنٹس رہنما دانیال بلوچ، سجاد بلوچ ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں پولیس نے جمہوری انداز میں مظاہرہ کرنے والے طلبا و طلبات کو گرفتار کرکے پابند سلاسل کردیا جو قابل مذمت ہے، انہوں نے کہاکہ آج کا یہ احتجاج ایک طبقہ کے لیے نہیں بلکہ پورے بلوچستان اور بلوچ قوم کے لیے ہیں، ہمارا تعلیمی نظام انتہائی ناقص ہے، ہم اپنے تعلیم کے حق میں احتجاج کررہے ہیں ، تعلیم کے بغیر ترقی ناممکن ہے، تعلیم کے نام پر جو آن لائن کلاسز شروع کئے جارہے ہیں خوش آئند ہے مگرانٹر نیٹ کی سہولت بھی دی جائے، آن لائن کلاسز صرف ایلیٹ طبقہ کے لئے بنایا گیا ہے، آواران میں ٹیلی فون اور نیٹ کی سہولت نہیں پھر وہ کس طرح آن لائن کلاسز لے سکیں گے، اسی طرح بلوچستان کے اکثر اضلاع موبائل اور نیٹ کی سہولت سے محروم ہے، ہمیں تھری جی اور فور جی کے نام پر دھوکہ دیا جارہاہے، انہوں نے کہاکہ ہمارے بلوچ خواتین جب گھر سے نکل کر تعلیمی میدان میں آجاتی ہیں مگر سہولیات کی فقدان ہے اور جب احتجاج کرتے ہیں تو گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ بلوچستان یونیورسٹی یونیورسٹی کم اور ایف سی کیمپ زیادہ ہے، انہوں نے کہاکہ بلوچستان کا اکثر آبادی انٹرنیٹ کی سہولت ناپید ہے اور اکثر علاقوں میں نیٹ ورک اور انٹر نیٹ تھری اور فور جی کو بند کئے ہوئے ہیں پھر آن لائن کلاسز کس طرح کامیاب ہونگے، اسٹوڈنٹس آئین کے اندر احتجاج کررہے تھے تو پھر گرفتار کیوں کئے گئے ، آج بلوچ حکمرانوں کے موجودگی میں بلوچ طلبا خواتین پر تشدد کرکے گرفتار کیا گیا جو کہ قابل مذمت ہیں، مکران بیلٹ انٹر نیٹ کی سہولت سے محروم ہیں پھر کس طرح آن لائن کلاسز سے طلبا مستفید ہونگے جہاں انٹر نیٹ اور بجلی کی سہولت موجود ہیں ۔ وفاق کا روئیہ بلو چستان کے ساتھ درست نہیں، مختلف حیلے بہانوں سے بلوچستان کے طلبا کو تعلیم سے دور رکھا جارہاہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.