حکومت فوری طور تعلیمی کانفرنس بلا کر بلوچستان کے طلباء کے جائز مطالبے کا حل نکالے ،نوابزادہ حاجی میر لشکری رئیسانی

0 24

کوئٹہ : بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء نوابزادہ حاجی میر لشکری رئیسانی نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور تعلیمی کانفرنس بلا کر بلوچستان کے طلباء کے جائز مطالبے کا حل نکالے ، صوبے کے 86فیصد لوگ انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہیں ، صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں 8سے 10جبکہ دیگر اضلاع میں 21گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے ایسے میں آن لائن کلاسز شروع کرنا بلوچستان کے طلباء کے ساتھ سنگین مذاق ہے ، پہلے جعلی دہشت گردی اور اب کورونا گردی کے ذریعے بلوچستان میں تعلیمی نظام بر با د اورطلباء کو تعلیم سے دور کیا جارہا ہے ، طلباء کا مطالبہ جائز ہے جسے فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے ، طلباء تنظیموں کی جانب سے پٹیشن دائر کرنے کے بعد حکومت کے ترجمان کی جانب سے تعلیمی اداروں کے لئے ایس او پیز بنانے کے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ موجودہ حکومت منتخب نہیں بلکہ سلیکٹڈ ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتالی کیمپ کے دورے کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سابق وفاقی وزیر میر ہمایوں عزیز کرد ، بی ایس او کے مرکزی جنرل سیکرٹری منیر جالب ، وائس چیئرمین خالد بلوچ ، سیکرٹری انفارمیشن ناصر بلوچ ، بی این پی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن جاوید بلوچ ، پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ملک عمر ، پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے عالمگیر خان مندوخیل ودیگر بھی موجود تھے ۔ حاجی میر لشکری رئیسانی نے منگل کے روز کوئٹہ پریس کلب کے سامنے بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی جانب سے لگائے گئے بھوک ہڑتالی کیمپ کا دورہ کیا اور طلباء کے ساتھ اظہار یکجہتی کی ۔ طلباء تنظیموں کے رہنمائوں نے انہیں طلباء کو درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ۔ اس موقع پر منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میر حاجی لشکری رئیسانی نے کہاکہ قومیں اپنی آنے والی نسلوں کی بقاء کے لئے منصونہ بندی کرکے جدوجہد کرتی ہے مگر بلوچستان کوکئی صدیوں سے جعلی دہشت گردی کی جنگ میں ڈال دیاگیا ہے جس کی وجہ سے تمام شعبہ ہائے زندگی شدید متاثر ہوئیں اور زندگی کو مفلوج کردیا گیا اور اب کورونا گردی کے ذریعے تمام شعبہ ہائے زندگی کو متاثر کرنے سمیت تعلیمی نظام کو برباد کیا جارہا ہے ۔پہلے جعلی دہشت گردی کے ذریعے تعلیمی اداروں کو جیل میں تبدیل کردیا گیا ہے اور اب 6مہینے سے تعلیم اداروں کی بندش سے آنے والی نسلوں کا نقصان ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج طلباء تنظیموں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے یہاں آیا ہوں ان کا مطالبہ جائز ہے جب صوبے کے 86فیصد لوگ انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہیں اور 14فیصد کو انٹرنیٹ کی سہولت میسر ہے جہاں انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے وہاں بھی کبھی فورجی کے سگنلز ہوتے ہیں تو کبھی نہیں اس کے علاوہ بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ نے تمام معاملات مفلوج کردیئے ہیں ۔ کوئٹہ جو کہ صوبائی دارالحکومت ہے میں 8سے 10گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جبکہ دیگر اضلاع میں تو 21گھنٹے تک اس کا دورانیہ ہوتا ہے ایسے حالات میں آن لائن کلاسز کا اجراء بلوچستان کے طلباء اور آنے والی نسلوں کے ساتھ سنگین مذاق ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھلے موجودہ حکومت جعلی ، سلیکٹڈ اور نااہل ہے پھر بھی ہمارا ان سے مطالبہ ہے کہ فوری طور پر تعلیمی کانفرنس بلایا جائے جس میں ہائیرایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کے نمائندے ، جامعات کے وائس چانسلرز ، طلباء کے نمائندوں کو شامل کرکے طلباء کے اس جائز مطالبے کو حل کراکر طلباء کو ہونے والے تعلیمی نقصان کا ازالہ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ جب منڈیوں ، دکانداروں اور بازاروں کو ایس او پیز کے تحت کھول دیا گیا ہے تو تعلیم یافتہ طبقے کے لئے ایس او پیز کا تعین کرکے تعلیمی ادارے کیوں نہیں کھولے جاسکتے ۔ انہوںنے کہا کہ ہم طلباء کے جائز مطالبات کی بھر پور حمایت کرتے ہیں بلکہ عملی طور پر ان کا ساتھ دیں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران سلیکٹڈ ہیں اور وہ عوام کو جوابدہ نہیں ہیں اس لئے بی ایس او کی جانب سے کورٹ میں پٹیشن دائر کی گئی ہے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پٹیشن دائر کرنے کے بعد حکومت کے غیر منتخب ترجمان کا تعلیمی اداروں کے لئے ایس او پیز بنانے کے لئے کمیٹی کی تشکیل سے متعلق بیان سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ حکمران جعلی ہیں ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.