جنگل کو آگ سے بچانے کیلئے جیلی دار مادے کا سپرے تیار

0 39

کیلیفورنیا:  اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے ایک ایسا جیلی دار مادہ تیار کرلیا ہے جسے لکڑی پر اسپرے کی شکل میں چھڑک دیا جائے تو وہ آگ سے محفوظ رہتی ہے۔ اسے جنگلات میں درختوں اور جھاڑیوں پر چھڑک کر جنگل کو آگ لگنے سے بھی بچایا جاسکتا ہے۔اس کی تیاری میں سیلولوز پولیمر (پودوں میں قدرتی طور پر پایا جانے والا مادہ)اور ریت جیسی کیمیائی خصوصیات رکھنے والے سلیکا ذرات کو آگ بجھانے والے ایک مائع میں ملایا گیا ہے۔اس ایجاد کی تفصیلات پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز پر 30 ستمبر 2019 کے روز شائع ہوچکی ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ یہ مادہ نہ صرف بے ضرر ہے بلکہ حیاتی تنزل پذیر (بایو ڈیگریڈیبل)بھی ہے۔ یعنی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ خود بخود تحلیل ہوجاتا ہے۔قبل ازیں فن لینڈ کے وی ٹی ٹی ٹیکنیکل سینٹر کے ماہرین نے بھی اس سے ملتی جلتی ایک پالش بنائی تھی جو لکڑی کو آگ لگنے سے بچاتی ہے۔اسٹینفرڈ یونیورسٹی میں تیار کیا گیا جیلی دار مادہ اس سے قدرے بہتر ہے کیونکہ ایک طرف تو اس کی تیاری خاصی کم خرچ ہے تو دوسری جانب اسے اسپرے کی شکل میں وسیع رقبے پر بکھیرنے کا کام بھی کم وقت میں، اور آسانی سے مکمل ہوجاتا ہے۔حیاتی تنزل پذیر ہونے کی وجہ سے ہر سال اس کا نیا اسپرے کرنا پڑے گا۔ اس جیلی دار مادے کو کیلیفورنیا میں محکمہ فائر بریگیڈ کی نگرانی میں گھاس پر کامیابی سے آزمایا جاچکا ہے۔ ان آزمائشوں سے معلوم ہوا کہ یہ تیز ہوا کے جھکڑوں کے علاوہ تقریبا 13 ملی میٹر جتنی بارش بھی برداشت کرسکتا ہے۔واضح رہے کہ جنگل کی آگ بہت خطرناک ہوتی ہے کیونکہ یہ بڑی تیزی سے پھیلتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے سیکڑوں، ہزاروں درختوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگل کی آگ بجھانا آج بھی انتہائی مشکل کام سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اگر کسی طرح درختوں کو اس قابل بنا دیا جائے کہ وہ آگ سے محفوظ رہیں، تو اس طرح نہ جنگل میں آگ لگے گی اور نہ ہی انسانی جانوں اور قدرتی ماحول کو اس سے خطرہ لاحق ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.