امریکا، 17برس بعد سزائے موت بحال، شیڈول جاری

0 30

واشنگٹن: امریکی اٹارنی جنرل نے فیڈرل بیورو آف پرزنز(وفاقی قیدی بیورو)کو 17 برس کے بعد سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کی سزائے موت پر عملدرآمد کے لیے احکامات جاری کردیے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ انصاف کے مطابق امریکی اٹارنی جنرل ولیم بار نے 2003 سے سزائے موت کے منتظر قیدیوں سے متعلق احکامات جاری کیے۔محکمہ کے بیان کے مطابق بچوں کے قتل میں ملوث 4 وفاقی قیدیوں کی پھانسی کی تاریخ جولائی اور اگست میں مقرر کی گئی ہے۔واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے انتہائی زہریلے انجکشن سے سزائے موت پر عملدرآمد شروع کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن عدالت نے حکم امتناع جاری کردیا تھا۔تاہم ٹرمپ انتظامیہ کو اپریل میں اس وقت کامیابی ملی جب امریکی عدالت برائے کولمبیا سرکٹ نے ضلعی جج کے حکم نامے کو کالعدم قرار دے دیا تھا جس نے چاروں مجرمان کی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا تھا۔اٹارنی جنرل ولیم بار نے چاروں مجرموں کے حوالے سے ایک بیان میں کہا کہ قوانین کے تحت مکمل اور منصفانہ کارروائی کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘ہم خوفناک جرائم کا نشانہ بننے والے افراد اور ان کے سوگوار خاندانوں کے لیے اپنے نظام انصاف کے ذریعے عائد سزا کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔قیدیوں کی سزائے موت پر عملدرآمد کے لیے جاری شیڈول کے مطابق 13 جولائی کو ڈینیئل لی، 15 جولائی کو ویسلی پورکی، 17 جولائی کو ڈسٹن ہنکن اور 28 اگست کو کیتھ نیلسن کی سزاں پر عمل ہوگا۔امریکا میں زہریلے ٹیکے کے ذریعے سزائے موت دینے کا اصول یہ ہوتا ہے کہ ایک ٹیکا ایک فرد کو لگے گا اور اسے جو لگاتا ہے اس کا چہرہ چھپا کر رکھا جاتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.