بہتر اقدامات، 2025 ءمیں بیرون ملک بھجوائے گئے افراد کی تعداد سالانہ بنیاد پر 5 فیصد اضافے کے ساتھ 7 لاکھ 62 ہزار 499 رہی،،وزارتِ سمندر پار پاکستانیز
اسلام آباد۔17جنوری :وزارتِ سمندر پار پاکستانیز و ترقیِ انسانی وسائل نے کہا ہے کہ نظام میں بہتری سے بیرون ملک پاکستانیوں کے روزگار اور تحفظ میں اضافہ ہوا،2025 ءمیں مجموعی طور پر 7 لاکھ 62 ہزار 499 افراد بیورو آف امیگریشن کی سہولت کاری سے بیرون ِملک بھجوائے گئے جو 2024 کے مقابلے میں 5 فیصد زیادہ ہیں۔وزارتِ کے مطابق بیورو آف امیگریشن کی جانب سے بیرون ملک روزگار کے متلاشی افراد کی سہولت کاری کےلئے اقدامات یقینی بنا ئے جارہے ہیں جن کے نتیجے میں گزشتہ سال بیرون ملک بجھوائے جانے والے پاکستانی کارکنوں کی تعداد 2024 کی نسبت 5فیصد بڑھ کر 7 لاکھ 62 ہزار 499 تک پہنچ گئی ،2025 ءمیں بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کارکنوں کی ترسیلاتِ زر میں بھی سالانہ بنیاد پر9 فیصد اضافہ ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر 2025 کے دوران بڑھ کر 40 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ واضح رہے کہ وزارت ِسمندر پار پاکستانیز نے 2025ءکے دوران اٹلی، بیلاروس اور عراق کے ساتھ لیبر موبلٹی معاہدوں پر دستخط کیے،دوست ممالک کے ساتھ معاہدوں سے پاکستانی افرادی قوت کےلئے باعزت روزگار، ورکر ویلفیئر اور محفوظ امیگریشن کی راہ ہموار ہوئی۔ اسی طرح اٹلی کا پاکستان کے لیے تین سال کےلئے 10,500 کارکنوں کا کوٹہ مختص کرنا بڑی پیش رفت ہے،اٹلی کا 3 سال کیلئے تقریباً 3,500 افراد سالانہ کا پاکستان کے لیے پہلا کوٹے پر مبنی لیبر میکانزم ہے،یہ کوٹہ مہمان نوازی، ہیلتھ کیئر، زراعت اور شپ بریکنگ جیسے شعبوں میں پاکستانیوں کےلئے مواقع فراہم کرے گا۔ مزید برآں قطر کے 19 سال بعد پاکستانی کارکنوں کےلئے ورک ویزوں کا اجرا دوبارہ شروع کرنے سے خلیجی ممالک تک رسائی مزید وسیع ہوئی ہے۔ وزارت نے نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ای-پروٹیکٹر سسٹم بھی متعارف کرایا ہے،اقدام کے نتیجے میں کارکردگی میں ناکامی پر 71 اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے لائسنس منسوخ کیے گئے جس سے شفافیت بڑھی اور بیرون ملک جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کو استحصال سے تحفظ ملا ہے۔ وزارت نے معیاری پری ڈیپارچر اورینٹیشن پروگرام بھی نافذ کیا ہے،کارکنان کو بیرون ِملک کام کے ماحول سے ہم آہنگ کرنے کیلئے پہلی بار لازمی ویب بیسڈ سافٹ سکلز ٹریننگ ماڈیول متعارف کرایا گیا ہے۔وزارت کی جانب سے فلاحی اقدامات کے تحت شادی گرانٹ 4 لاکھ سے بڑھا کر 6 لاکھ روپے کر دی گئی ہے جبکہ وزارت کی جانب سے وفات گرانٹ بھی 8 لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کر دی گئی۔وزارت نے 2025ءمیں پہلا اوورسیز پاکستانی کنونشن منعقد کیا، دوسرا کنونشن اپریل 2026 میں متوقع ہے۔ 14 اگست 2025 کو پہلی بار 16 بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے سول ایوارڈز کا اعلان بھی کیا گیا۔بیرون ملک پاکستانیوں کے قانونی تحفظ کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام سے متعلق قوانین وفاق، پنجاب اور بلوچستان اسمبلیوں میں منظور کیے گئے ہیں۔ سمندر پار پاکستانیوں کےلئے خصوصی عدالتوں کے قیام سے جائیدادی تنازعات کے حل میں تیزی آئے گی۔وزارت کی جانب سے حادثاتی موت اور معذوری انشورنس سکیم بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کی حادثاتی موت کی صورت میں 20 لاکھ روپے کی انشورنس، جنازہ گرانٹ 50 ہزار اور لاش کی وطن واپسی کے اقدامات شامل ہیں۔ مہنگائی کے اثرات کے پیشِ نظر ریٹائرڈ ورکرز کےلئے ای او بی آئی کی کم از کم پینشن میں 15 فیصد اضافے کے بعد 11 ہزار 500 کردی گئی ہے۔اقدامات بیرون ملک باعزت روزگار کے فروغ، کارکنوں کے تحفظ اور قومی معیشت میں اوورسیز پاکستانیوں کے کردار کو مزید مضبوط بنانے کےلئے کیے گئے ہیں
Comments are closed.