کاغذوں میں جدید، زمین پر ناکام: نارا کینال منصوبے میں
اربوں کی مبینہ خوردبرد
امداد بوزدار
سکھر: جو منصوبہ سندھ میں آبپاشی کے نظام میں اصلاحات کے لیے ایک مثالی منصوبہ قرار دیا جا رہا تھا، وہ اب مبینہ بدعنوانی، غفلت اور سیاسی سرپرستی کی ایک سنگین مثال بنتا جا رہا ہے۔ سکھر میں نارا کینال لائننگ منصوبے سے متعلق چونکا دینے والے انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔
آبپاشی ماہرین کے مطابق کینال لائننگ کے منصوبے عالمی معیار کے تحت کم از کم 20 سال تک کارآمد رہنے کے لیے ڈیزائن کیے جاتے ہیں، مگر سکھر کے آبپاشی نظام میں ایسے منصوبے حیران کن طور پر چند مہینوں یا زیادہ سے زیادہ ایک سے دو سال میں ہی تباہ حال ہو جاتے ہیں۔ نارا کینال لائننگ منصوبہ بھی اسی افسوسناک روایت کا شکار دکھائی دیتا ہے۔
سال 2025 میں مکمل کیا جانے والا نارا کینال لائننگ اور فلورنگ منصوبہ کینال کی کمانڈ اور پانی کی ترسیلی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے بنایا گیا تھا، تاہم باخبر ذرائع اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے میں غیر معیاری تعمیراتی مٹیریل استعمال کیا گیا اور کمزور نگرانی کے باعث کام کو بری طرح متاثر کیا گیا۔ مزید یہ کہ ٹھیکہ میرٹ کے بجائے پسندیدہ ٹھیکیدار
نسیـم شاہ کو دیا گیا، جس سے شفافیت پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق کینال کی بندش اور لائننگ کا کام 7 جنوری سے 20 جنوری تک مکمل ہونا تھا، مگر زمینی حقائق کے مطابق منصوبہ مقررہ مدت سے تجاوز کر گیا اور مبینہ طور پر فروری کے پہلے ہفتے میں عجلت میں مکمل کیا گیا تاکہ نگرانی اور جانچ سے بچا جا سکے۔ تقریباً 300 فٹ طویل اس حصے میں ڈیزائن کے مطابق کنکریٹ سیمنٹ (CC) فلورنگ کے نیچے گیس کے اخراج کے لیے پی وی سی پائپ نصب کیے جانے تھے، جو لائننگ کی مضبوطی اور حفاظت کے لیے نہایت اہم ہوتے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ پائپ یا تو سرے سے لگائے ہی نہیں گئے یا صرف کاغذی کارروائی میں دکھا دیے گئے۔
یہ منصوبہ سندھ حکومت کے 3000 ملین روپے سے زائد کے میگا ترقیاتی پیکیج کا حصہ تھا، جس کا مقصد نارا کینال کی پانی لے جانے کی صلاحیت کو 13,000 کیوسک سے بڑھا کر 19,000 کیوسک کرنا تھا تاکہ سندھ کے وسیع زرعی علاقوں کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔ تاہم مبینہ فنڈز کی خردبرد، ناقص کاریگری اور دانستہ غفلت کے باعث یہ منصوبہ اب ایک اور ناکام اور بے نتیجہ اسکیم بنتا دکھائی دے رہا ہے۔
تنازعے کو مزید سنگین بنانے والی بات یہ ہے کہ تعمیراتی مرحلے کے دوران ضلع کے اہم سیاسی رہنما، جن میں بلدیات کے وزیر ناصر شاہ، ضلع چیئرمین کمیل حیدر شاہ اور میئر سکھر بیرسٹر ارسلان شیخ شامل ہیں، مسلسل منصوبے کا دورہ کرتے رہے اور میڈیا کو مثبت بریفنگ دیتے رہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ دورے نگرانی کے بجائے نمائشی سرگرمیاں تھیں،
کیونکہ بعد از تکمیل سامنے آنے والی خامیوں پر کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔
ذرائع کے مطابق فیلڈ انجینئرز کی جانب سے دی جانے والی تکنیکی وارننگز کو نظرانداز کیا گیا اور رپورٹس کو “مینج” کر کے منصوبے کو مکمل اور کامیاب ظاہر کیا گیا، جبکہ زمینی حقیقت اس کے برعکس تھی۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ ناقص لائننگ عام دباؤ بھی برداشت نہیں کر پائے گی، جس سے آبپاشی نظام اور کسانوں کے روزگار کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
سول سوسائٹی، انجینئرز اور قانونی برادری نے اب اس معاملے پر آواز بلند کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی، آزاد اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ منصوبے کا فرانزک آڈٹ کیا جائے، استعمال شدہ مٹیریل کی جانچ ہو، ٹھیکہ دینے کے عمل کی مکمل چھان بین کی جائے اور ذمہ دار ٹھیکیداروں و افسران کو قوم کے اربوں روپے کے نقصان پر کٹہرے میں لایا جائے۔
ایک سینئر قانونی ماہر کے مطابق، یہ محض ایک ناکام منصوبہ نہیں بلکہ عوامی خزانے کے خلاف مبینہ جرم ہے۔ اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود کینال مطلوبہ پانی فراہم کرنے کے قابل نہیں۔ ذمہ داروں کو بے نقاب کرنا ناگزیر ہے۔”
نارا کینال لائننگ منصوبہ اس وقت اس تلخ حقیقت کی علامت بن چکا ہے کہ کس طرح سیاسی اثر و رسوخ، ناقص حکمرانی اور مبینہ بدعنوانی سندھ کے اہم ترین ترقیاتی منصوبوں کو بھی ناکامی سے دوچار کر دیتی ہے—اور اس کی قیمت عوام اور صوبے کی معیشت کو چکانا پڑتی ہے۔
Comments are closed.