پاکستان نے اقوامِ متحدہ میں بچوں کے حقوق سے متعلق پیش رفت پیش کی

27

عسکر انٹرنیشنل رپورٹ
اسلام آباد، 16 جنوری 2026: حکومتِ پاکستان نے بچوں کے حقوق سے متعلق اقوامِ متحدہ کے کنونشن برائے حقوقِ اطفال (CRC) کے تحت اپنی چھٹی اور ساتویں مشترکہ رپورٹ، اور بچوں کی خرید و فروخت، جسم فروشی اور فحش نگاری سے متعلق اختیاری پروٹوکول (OPSC) کی ابتدائی رپورٹ پیش کی۔ جنیوا میں جائزے میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کی۔
وفد نے قانونی اور ادارہ جاتی اصلاحات، جیسے صوبائی سطح پر کم عمری کی شادی کی ممانعت، آن لائن بچوں کے جنسی استحصال اور سائبر بُلنگ کے قوانین، سرکاری و نجی اداروں میں ڈے کیئر مراکز، نوعمر ملزمان کے لیے خصوصی عدالتی نظام، اور زینب الرٹ ایجنسی کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔
وفد نے جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ، 2018 کے نفاذ اور نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کے کردار، بچوں کے تحفظ کے لیے حفاظتی اقدامات، موبائل ایپلیکیشن ZARRA اور کمزور بچوں کی حمایت کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ کمیٹی کے سامنے پیش کیا۔
وفاقی اور صوبائی سطح پر غذائی قلت، تعلیم اور صحت کے حوالے سے اقدامات، جیسے بینظیر نشوونما پروگرام اور قومی تعلیمی ایمرجنسی، بھی کمیٹی کے سامنے اجاگر کیے گئے۔ حکومت نے بچوں کے حقوق کو انسانی حقوق کے ایجنڈے کا بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے، شفافیت، رپورٹنگ اور فالو اپ کے نظام کو مزید مضبوط کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
حکومت نے بچوں کے وقار، تحفظ اور فلاح و بہبود کے فروغ کے لیے جاری اصلاحات اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مستقل عزم کا اعادہ کیا۔

Comments are closed.