وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کی زیر صدارت قومی گندم نگرانی کمیٹی کا تیسرا اجلاس، عبوری قومی گندم پالیسی پر عملدرآمد کی پیش رفت کا جائزہ
اسلام آباد۔6جنوری :وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت قومی گندم نگرانی کمیٹی کا تیسرا اجلاس منعقد ہوا جس میں عبوری قومی گندم پالیسی کے نفاذ کے لیے صوبوں/خطوں میں صوبائی عملدرآمد یونٹس کے قیام میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں موجودہ گندم کے ذخائر کو تلفی سے بچانے کے منصوبے اور نجی شعبے کے ذریعے گندم کے سٹریٹجک ذخائر کی خریداری کے ماڈل پر بھی غور کیا گیا۔کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ تمام صوبوں اور خطوں نے عبوری قومی گندم پالیسی کے نفاذ کے لیے اپنے صوبائی عملدرآمد یونٹس کامیابی سے قائم کر لیے ہیں جس سے ملک بھر میں مربوط اور مو ¿ثر عملدرآمد کو یقینی بنایا گیا ہے۔تلفی سے بچانے کے منصوبے کے ایجنڈے کے تحت تمام صوبوں نے اپنے دستیاب گندم کے ذخائر کی تفصیلات اور متعلقہ تلفی حکمت عملیوں سے آگاہ کیا۔گندم کے سٹریٹجک ذخائر کی خریداری کے ماڈل کے حوالے سے بتایا گیا کہ پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان نجی شعبے کی کمپنیوں کے ذریعے خریداری کریں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ قومی گندم پالیسی کا بنیادی مقصد کسانوں کے لیے گندم کی قیمتوں کو مستحکم کرنا اور انہیں منڈی کی غیر یقینی صورتحال سے محفوظ رکھنا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ یہ پالیسی غذائی تحفظ کو یقینی بنانے اور قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے نہایت احتیاط سے تیار کی گئی ہے اور اس کے مکمل نفاذ کے بعد صارفین پر کسی قسم کا غیر ضروری بوجھ نہیں پڑے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ پالیسی شفافیت کو فروغ دیتی ہے، نجی شعبے کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور وفاق و صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کو بہتر بناتی ہے۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ قومی گندم پالیسی پر موثر عملدرآمد سے ایک پائیدار اور متوازن گندم منڈی قائم ہوگی جس سے کسانوں، صارفین اور قومی معیشت کو فائدہ پہنچے گا
Comments are closed.