زرعی شعبے میں ترقی کی بھرپور استعداد موجود ہے، زرعی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے لائحہ عمل تشکیل دیا جائے، وزیر اعظم محمد شہباز شریف

28

 اسلام آباد۔6جنوری :وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے زرعی شعبے میں اصلاحات اور کسانوں کو عالمی سطح پر رائج اطوار سے متعارف کرانے کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ زرعی شعبے میں ترقی کی بھرپور استعداد موجود ہے، انہوں نے زرعی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت بھی کی۔پی ایم ا?فس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ان خیالات کا اظہار منگل کو یہاں زرعی برآمدات میں اضافے اور زرعی شعبے کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے تشکیل کردہ نجی شعبے کے ماہرین پر مشتمل ورکنگ گروپ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، رانا تنویر حسین، ڈاکٹر مصدق ملک، محمد اورنگزیب، عطائ اللہ تارڑ، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاونِ خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبے میں اصلاحات اور کسانوں کو عالمی سطح پر رائج اطوار سے متعارف کرانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت زرعی شعبے میں اپنے دائرہ کار میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر زراعت کی ترقی کےلئے اقدامات کر رہی ہے، فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کےلئے کسانوں کو معیاری بیج، مناسب قیمت پر بروقت کھاد اور بیماری کی روک تھام کےلئے ادویات کی فراہمی کےلئے اقدامات جاری ہیں، زرعی اجناس کی پراسیسنگ سے برآمدات کے قابل اشیا کی تیاری کےلئے پالیسی سطح پر اقدامات کیے جارہے ہیں۔ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ حال ہی میں چین میں سرکاری خرچ پر ایک ہزار پاکستانی طلبا و طالبات کو زراعت کی جدید ٹیکنالوجی کی تربیت کےلئے بھیجا گیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زرعی شعبے میں ترقی کی بھرپور استعداد موجود ہے، موجودہ وسائل میں رہتے ہوئے زراعت کی ترقی کےلئے تحقیق پر سرمایہ کاری کررہے ہیں تاکہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہو۔ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ ماہی گیری ، پھلوں اور ان سے تیار کردہ مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کےلئے اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ساحلی پٹی پر پام آئل کی پیداوار کے لیے پالیسی اقدامات تشکیل دے کر پیش کئے جائیں اور آئندہ پانچ برس میں زرعی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔ اجلاس میں چیئرمین ورکنگ گروپ رانا نسیم اور ان کی ٹیم نے زرعی شعبے پر جامع رپورٹ پیش کرتے ہوئے اسے درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس کو ملک میں ربیع و خریف کی بڑی فصلوں، ان کی فی ایکڑ اوسط پیداوار، ہارٹی کلچر و پھلوں کی پیداوار ، ان کی برآمدات، گلہ بانی، ڈیری شعبے اور زراعت سے متعلقہ تمام شعبوں کا خطے و عالمی سطح پر تقابلی جائزہ پیش کیا گیا?۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ قلیل مدتی اصلاحاتی فریم ورک کے تحت پاکستان کی موجودہ فی ایکڑ اوسط پیداوار کو موجودہ وسائل میں رہتے ہوئے بڑھایا جائے گا، اس کے لئے وفاقی حکومت معیاری بیج کی فراہمی اور پالیسی اقدامات کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں کے تعاون سے مو ¿ثر ایکسٹینش سروسز اور کسانوں کو جدید خطوط پر زرعی طریقہ کار سے روشناس کرائے گی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ زرعی اجناس کی پراسیسنگ کےلئے وفاقی حکومت سرٹیفیکشن رجیم پر کام کرے گی جو زرعی اجناس اور ان سے تیار کردہ مصنوعات کی قدر میں اضافے کو یقینی بنا کر عالمی منڈیوں میں کسانوں کےلئے منافع میں اضافہ کرے گی۔ اجلاس کو تحقیق کے اداروں میں اصلاحات پر بھی جامع لائحہ عمل پیش کیا گیا جو نہ صرف موجودہ فصلوں کی پیداوار میں اضافے بلکہ پاکستان کی آب و ہوا اور زمینی تاثیر کے مطابق نئی و منافع بخش فصلوں کی کاشت کی حوصلہ افزائی کو یقینی بنائیں گی۔ وزیرِ اعظم نے ورکنگ گروپ کی جانب سے مفصل بریفنگ کو سراہتے ہوئے قابل عمل، مو ¿ثر و جامع روڈ میپ تیار کرکے حکومتی اصلاحات کی شفارشات میں شامل کرنے کی ہدایت کی

Comments are closed.