خسارے کے شکار ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کی اولین ترجیحات میں ہے،پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی کامیاب نجکاری بارش کا پہلا قطرہ ہے ، وزیراعظم محمد شہباز شریف

26

 اسلام آباد۔6جنوری :وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ خسارے کے شکار ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کی اولین ترجیحات میں ہے،پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی کامیاب نجکاری بارش کا پہلا قطرہ ہے ، نجکاری کمیشن میں اصلاحات کے حوالے سے کام تیز اور نجکاری کمیشن میں نجی شعبے اور مارکیٹ سے بہترین صلاحیتوں کے حامل متعلقہ افرادی قوت کو تعینات کیا جائے،تمام تر تعیناتیاں انتہائی شفاف انداز میں کی جائیں ،نجکاری کمیشن کے منصوبوں کا بین الاقوامی معیار کی فرم سے تھرڈ پارٹی آڈٹ کروایا جائے ۔منگل کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے ان خیالات کا اظہار نجکاری کمیشن کے امور سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف ، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری و چیئرپرسن نجکاری کمیشن محمد علی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔وزیراعظم نے کہا کہ خسارے کے شکار ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ہے ،پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی کامیاب نجکاری بارش کا پہلا قطرہ ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ نجکاری کمیشن میں اصلاحات کے حوالے سے کام تیز کیا جائے ،نجکاری کمیشن میں نجی شعبے اور مارکیٹ سے بہترین صلاحیتوں کے حامل متعلقہ افرادی قوت کو تعینات کیا جائے، تمام تر تعیناتیاں انتہائی شفاف انداز میں کی جائیں۔وزیراعظم نے نجکاری کمیشن کو ڈیجیٹائز کرنے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ نجکاری کمیشن کے منصوبوں کا بین الاقوامی معیار کی فرم سے تھرڈ پارٹی آڈٹ کروایا جائےاور نجکاری کمیشن میں پبلک ریلیشنز اور مارکیٹنگ کے شعبے کو مزید بہتر بنایا جائے۔اجلاس کو نجکاری کمیشن میں جاری اصلاحات پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ نجکاری کمیشن میں مارکیٹ سے فائنانس، ہیومن ریسورس، قانون، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور میڈیا مینجمنٹ کے حوالے سے ایڈوائرز بھرتی کئے جائیں گے ۔نجکاری کمیشن میں مارکیٹ سے سٹریٹیجی، پالیسی، ٹرانزیکشن اور پاور کے شعبوں کے کنسلٹینس تعینات ہوں گے،سٹریٹیجک نظم و ضبط ، مضبوط گورننس ، ادارہ جاتی استعداد کی بہتری اور سٹیک ہولڈرز کے ساتھ شفاف روابط نجکاری کمیشن کی جاری اصلاحات کی بنیاد ہیں ۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کو ابتدائی طور پر دو بیچز میں رکھا گیا ہے ،پہلے بیچ میں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی ، گوجرانوالا الیکٹرک پاور کمپنی اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کی نجکاری ہو گی ۔دوسرے بیچ میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی اور سکھر الیکٹرک پاور کمپنی کی نجکاری ہو گی۔

Comments are closed.