صوبائی وزیر پی ایچ ای سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا ہے کہ بلوچستان اس وقت شدید قدرتی آفات کی لپیٹ میں ہے

26

کو ئٹہ:15 دسمبر: صوبائی وزیر پی ایچ ای سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا ہے کہ بلوچستان اس وقت شدید قدرتی آفات کی لپیٹ میں ہے، جہاں عوام کو پینے کے صاف پانی سمیت بنیادی ضروریات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ محدود وسائل کے باوجود صوبائی حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ عوام کو کم از کم پینے کا پانی میسر آ سکے ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ زلزلے، سیلاب اور بارشوں کا نہ ہونا قدرتی آفات میں شمار ہوتے ہیں اور بدقسمتی سے بلوچستان گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل ان آفات کی زد میں ہے۔سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ جانور ہلاک ہو رہے ہیں اور عوام پینے کے پانی کو ترس گئے ہیں۔ زیرِ زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے چلی گئی ہے، جس کے باعث وہ ڈیمز بھی تقریباً خشک ہو چکے ہیں جو صوبائی حکومت نے عوام کی سہولت کے لیے تعمیر کیے تھے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت دستیاب وسائل میں رہتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے تاکہ متاثرہ علاقوں میں پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکومت کی اولین ترجیح انسانی جانوں کا تحفظ اور عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی ہے۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ قدرتی آفات کے اثرات سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں تاکہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے بلوچستان کے عوام کو اس مشکل صورتحال سے نکالا جا سکے۔

Comments are closed.