گرینڈ الائنس استامحمد کے جنرل سیکریٹری عبداللہ پندرانی کی قیادت میں گرینڈ الائنس کا احتجاجی ریلی گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول استامحمد سے ریلی کی شکل میں استامحمد پریس کلب رجسٹرڈ پہنچے

35

استا محمد ۔ رپورٹ عبداللہ مگسی۔
گرینڈ الائنس استامحمد کے جنرل سیکریٹری عبداللہ پندرانی کی قیادت میں گرینڈ الائنس کا احتجاجی ریلی گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول استامحمد سے ریلی کی شکل میں استامحمد پریس کلب رجسٹرڈ پہنچے۔پریس کلب کے مین گیٹ پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا مظاہرین نے بلوچستان حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور بلوچستان گرینڈ الائنس کے مرکزی ترجمان علی بخش جمالی۔ ضلعی جنرل سیکریٹری عبداللہ پندرانی، محمد علی جتک، لیاقت علی جمالی، طارق علی جمالی، عطااللہ مستوئی، مشعوق علی خان جمالی، عبدالنبی جمالی سمیت دیگر قائدین نے استا محمد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت بلوچستان کے طرزِ عمل پر شدید تشویش اور مایوسی کا اظہار کیا۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قائدین نے کہا کہ سرکاری ملازمین شدید مجبوری، عدم تحفظ اور مسلسل نظراندازی کے باعث احتجاج پر مجبور ہو چکے ہیں۔ حکومت کی غیر سنجیدگی، عدم توجہی اور غیر منصفانہ رویے نے ملازمین کو ذہنی، معاشی اور انتظامی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چھ ماہ گزرنے کے باوجود حکومت ملازمین سے کیے گئے تحریری وعدوں پر عمل درآمد میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔رہنماؤں نے بتایا کہ وزرا اور سیکرٹریز پر مشتمل حکومتی کمیٹی کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کے بعد مشترکہ سفارشات پر مکمل اتفاق ہوا، منٹس آف میٹنگ پر باقاعدہ دستخط کیے گئے اور وزیراعلیٰ بلوچستان کو بریفنگ کے بعد کابینہ سے منظوری کی یقین دہانی بھی کروائی گئی، تاہم گزشتہ چھ ماہ سے مختلف حیلوں بہانوں کے تحت ان سفارشات کو کابینہ اجلاس کے ایجنڈے سے مسلسل نکالا جا رہا ہے، جو انتہائی قابلِ مذمت اور افسوسناک عمل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ سیشن کے دوران سرکاری ملازمین کے پرامن احتجاج کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی، چھاپے مارے گئے، رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا اور لاٹھی چارج و آنسو گیس کا استعمال کیا گیا، جو کسی بھی جمہوری حکومت کے شایانِ شان نہیں۔ قائدین کا واضح مؤقف تھا کہ ملازمین کسی اضافی مراعات کا مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ صرف وہی آئینی و قانونی حقوق چاہتے ہیں جو وفاقی ملازمین کو پہلے ہی حاصل ہیں۔پریس کانفرنس کے دوران بلوچستان گرینڈ الائنس نے مرحلہ وار احتجاجی تحریک کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ15 اور 16 دسمبر کو تمام سرکاری دفاتر پر سیاہ بینرز آویزاں کیے جائیں گے اور ملازمین بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔19 دسمبر کو مکران اور نصیرآباد ڈویژن میں احتجاجی مظاہرے منعقد کیے جائیں گے24 سے 26 دسمبر تک صوبے کے تمام اضلاع میں پریس کلبز کے باہر احتجاجی کیمپ لگائے جائیں گے۔29 دسمبر کو صوبہ بھر میں قلم اور کام چھوڑ ہڑتال کی جائے گی۔جبکہ 30 اور 31 دسمبر کو بلوچستان بھر میں تمام محکموں میں مکمل لاک ڈاؤن کیا جائے گا۔قائدین نے حکومت سے سوال کیا کہ کیا آئین پاکستان کے تحت وفاقی اکائیوں کے ساتھ یکساں سلوک نہیں ہونا چاہیے؟ کیا دو لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین کے آئینی حقوق تسلیم کیے جائیں گے؟ اور کیا حکومت اپنی دستخط شدہ سفارشات پر عمل درآمد کرے گی یا ملازمین کو مزید دیوار سے لگایا جاتا رہے گا انہوں نے واضح کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ آخر میں رہنماؤں نے امید ظاہر کی کہ حکومت حالات کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے ہوش کے ناخن لے گی اور سرکاری ملازمین کے جائز اور آئینی مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کرے گی۔

Comments are closed.