سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو 14 سال قید کی سزا

30

آئی ایس پی آر، راولپنڈی — 12 دسمبر 2025ء

آئی ایس پی آر کے مطابق سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی 12 اگست 2024 کو پاکستان آرمی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت شروع ہوئی، جو مجموعی طور پر 15 ماہ تک جاری رہی۔

ملزم پر چار سنگین الزامات عائد کیے گئے جن میں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی جو ریاست کی سلامتی کے لیے نقصان دہ قرار پائی، اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال، اور بعض افراد کو غیر ضروری نقصان پہنچانے کا الزام شامل ہے۔

طویل اور جامع قانونی کارروائی کے بعد، 11 دسمبر 2025 کو ملزم کو تمام الزامات میں قصوروار ٹھہراتے ہوئے 14 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے تمام قانونی تقاضے پورے کیے اور ملزم کو اپنی مرضی کی دفاعی ٹیم رکھ کر مکمل قانونی حق استعمال کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ مجرم کو متعلقہ فورم پر اپیل کا حق بھی دیا گیا ہے۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی عناصر کے ساتھ دانستہ ملی بھگت کے ذریعے سیاسی اشتعال انگیزی اور عدم استحکام پیدا کرنے کے علاوہ کچھ دیگر معاملات میں ملوث ہونے کے پہلوؤں سے متعلق کارروائیاں الگ سے زیرِ غور ہیں۔

Comments are closed.