بلوچستان کے 51 فیصد گھرانے کم آمدنی اور 71 فیصد آبادی کثیرالابعاد غربت کا شکار، وزیر اعلیٰ بلوچستان کا سمپوزیم سے خطاب
عسکر انٹرنیشنل رپورٹ
اسلام آباد، 8 دسمبر 2025
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی آج کی دنیا کا سب سے بڑا چیلنج ہے، اور بلوچستان اس کے براہ راست اور سنگین اثرات کے باوجود پائیدار ترقی کے سفر میں استقامت کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ بات انہوں نے پیر کو “پائیدار ترقی اور بلوچستان میں ماحولیاتی استقامت” کے موضوع پر محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے زیر اہتمام منعقدہ
سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ بلوچستان گزشتہ برسوں کے دوران خشک سالی، غیر معمولی بارشوں، سیلاب، شدید گرمی کی لہروں اور موسمی بے ترتیبی کا سامنا کر رہا ہے، جس سے سب سے زیادہ غریب اور کمزور طبقات متاثر ہو رہے ہیں۔ صوبے کے 51 فیصد گھرانے آمدنی کی غربت اور 71 فیصد آبادی کثیرالابعاد غربت کا شکار ہے۔
انہوں نے صوبائی حکومت کی جامع کلائمٹ چینج پالیسی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ توانائی، ٹرانسپورٹ، زراعت اور پانی کے شعبوں میں موافقت اور تخفیف کی واضح حکمت عملی فراہم کرتی ہے۔ بلوچستان میں شمسی اور ہوائی توانائی کے منصوبوں، الیکٹرک گاڑیوں اور گرین انفراسٹرکچر کے فروغ، زرعی شعبے میں موسمیاتی موافق طریقوں، اور پانی و
جنگلات کے موثر نظم و نسق پر کام جاری ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کاربن ٹریڈنگ بلوچستان کے لیے اہم موقع ہے اور صوبہ کلائمٹ چینج فنڈ موافقت، تخفیف اور استعداد کار بڑھانے کے منصوبوں میں معاونت کر رہا ہے۔ انہوں نے تمام اداروں، بین الاقوامی شراکت داروں، نجی شعبے اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں تاکہ بلوچستان کا پائیدار، محفوظ اور ماحولیاتی لحاظ سے مضبوط مستقبل ممکن بنایا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ نے سمپوزیم کے کامیاب انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ مشترکہ کوششیں موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نتیجہ خیز ثابت ہوں گی۔
Comments are closed.