حکومت پاور سیکٹر کی بحالی وجدت کیلئے بڑے پیمانے پر اصلاحات کر رہی ہے،ملک میں بہترین سولر پوٹینشل و گرین ٹیکنالوجی کیلئے سازگار ماحول موجود ہے، اویس احمد لغاری،احسن اقبال
لاہور۔6دسمبر وفاقی وزیر برائے توانائی (پاور ڈویڑن) سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان توانائی کے شعبے میں تیز رفتار اصلاحات اور صاف توانائی کے فروغ کے ذریعے خطے میں ایک اہم قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے،حکومت پاور سیکٹر کی بحالی اور جدت کے لیے بڑے پیمانے پر اصلاحات کر رہی ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ہفتہ کے روز یہاں لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز(لمز) میں دوسری ایشیائ انرجی ٹرانزیشن سمٹ سے بذریعہ زوم خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سابق وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر، سابق جج سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس منصور علی شاہ، پروگرام ڈائریکٹر مصطفی امجد ،ڈاکٹر طارق جدون، ڈاکٹر عمیس عبدالرحمان ، حمزہ علی ہارون سمیت ملکی و غیرملکی ماہرین اور طلبہ کی کثیر تعداد موجود تھی۔ یہ سمٹ پاکستان رینیوایبل انرجی کولیشن لمز اور الائنس فار کلائمیٹ جسٹس اینڈ کلین انرجی کے اشتراک سے منعقد ہوئی۔وزیرِ توانائی نے کہا کہ عالمی سطح پر توانائی کے سفارتی اور معاشی توازن تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، جس کے اثرات ترقی پذیر ممالک خصوصا ًایشیائ پر گہرے ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی توانائی ایجنسی اور اقوام متحدہ رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا اس وقت توانائی اور موسمیاتی حکمرانی کے ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایشیائ دنیا کی 48 فیصد توانائی کھپت کا مرکز ہے جبکہ عالمی آبادی کا 60 فیصد براعظم ایشیائ میں رہتا ہے، جس سے یہ خطہ عالمی انرجی ٹرانزیشن کا محور بن چکا ہے۔وزیرِ توانائی کے مطابق ایشیائ میں قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری گزشتہ دہائی میں900 فیصد تک بڑھ چکی ہے۔پاکستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ملک کا کاربن اخراج عالمی سطح پر ایک فیصد سے بھی کم لیکن یہ دنیا کے دس سب سے زیادہ ماحولیاتی خطرات سے دوچار ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عوامی سطح پر ہونے والی سولر ریولوشن غیر معمولی رفتار سے آگے بڑھی ہے اور اب تک 50 گیگا واٹ کے قریب سولر پینلز ملک میں درآمد ہو چکے ہیں۔وزیرِ توانائی نے کہا کہ پاکستان اس وقت اپنی 52 فیصد بجلی صاف اور قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل کر رہا ہےجبکہ 2035 تک اس حصہ کو 90 فیصد سے زائد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاور سیکٹر کی بحالی اور جدت کے لیے بڑے پیمانے پر اصلاحات کر رہی ہے، جن میں ڈسکوز کی نجکاری، سمارٹ میٹرنگ، بجلی کی ترسیل نظام کی ڈیجیٹلائزیشن، سرکلر ڈیٹ میں کمی، 118 ہیلپ لائن کا قیام، نیشنل گرڈ کی تنظیمِ نو، زرعی ٹیوب ویلوں کی سولرائزیشن اور الیکٹرک وہیکل چارجنگ ٹیرف میں کمی جیسے اقدامات شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں مقابلہ جاتی بجلی مارکیٹ نافذ ہو چکی ہے جس سے شفافیت، سرمایہ کاری اور مسابقت میں اضافہ ہو گا۔تقریب کے اختتام پر وزیر توانائی نے منتظم اداروں، بین الاقوامی شراکت داروں اور شرکائ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ سمٹ نہ صرف تجربات کے تبادلے کا پلیٹ فارم بلکہ خطے میں اجتماعی اقدامات اور پائیدار توانائی کے مستقبل کی جانب پیش قدمی کا سنگِ میل ثابت ہو گی۔قبل ازیں سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی آج دنیا کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ عالمی ذمہ داری اور شراکت داری ناگزیر ہے، اس سلسلے میں پاکستان نے ترقی یافتہ ممالک اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ کلائمیٹ فنانسنگ میں اپنا کردار بڑھائیں تاکہ ترقی پذیر ممالک کم لاگت پر گرین ٹیکنالوجی اپنا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہنگامی صورتحال اور معاشی بوجھ میں اضافہ ہو رہا ہے، لہذا مالی مراعات اور کنسیشنل فنانسنگ ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی نظامِ فنانس کو اب مشترکہ ذمہ داری کی بنیاد پر ازسرنو ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا تیزی سے گرین آرکیٹیکچر اور ماحول دوست ٹیکنالوجیز کی طرف بڑھ رہی ہے، پاکستان بھی قابل تجدید توانائی، سولر اور گرین ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے اپنے ترقیاتی منصوبوں میں جامع اصلاحات متعارف کرا رہا ہے۔ ملک میں بہترین سولر پوٹینشل، مضبوط رینیوبل مارکیٹ، انجینئرنگ و سائنس میں وسیع ٹیلنٹ پول اور گرین ٹیکنالوجی کے لیے سازگار ماحول موجود ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان، بین الاقوامی اداروں، ملٹی لیٹرل پارٹنرز اور نجی سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر کلائمیٹ فنانسنگ اور گرین ترقی کے لیے نئے ماڈلز تشکیل دے رہا ہے، جن میں گرین بانڈز اور بلیو فنانس جیسے جدید ذرائع بھی شامل ہیں۔
Comments are closed.