پی ٹی آئی کا فوج کے خلاف زبان استعمال کرنا پاکستان دشمنی ہے ، خواجہ محمد آصف

26

سیالکوٹ۔ 06 دسمبر ):وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نےکہا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت اور اسکے بیرونِ ملک عناصر گندی زبان استعمال کرتے ہوئے ملکی افواج و شہدائ کی قربانیوں کو نظرانداز کر رہے ہیں۔ہفتہ کو سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت اور عہدیداران نے جو رویہ اپنایا ہے وہ سیاسی شائستگی کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بعض رہنما اور عہدیدار سوشل میڈیا پر کھلے عام ننگی گالیاں دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت، خواہ وہ جیل سے باہر ہو، پارلیمنٹ میں ہو یا باہر، سب کا طرزِ گفتگو یکساں طور پر غیر شائستہ ہے۔ پی ٹی آئی کے وہ عناصر جو بیرونِ ملک بیٹھے ہیں، وہ بھی انتہائی سخت اور غیر ذمہ دارانہ زبان استعمال کرتے ہیں۔ اگرچہ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں، مگر عملی طور پر دونوں ایک ہی بیانیہ اور اسی گندی زبان کو فروغ دیتے ہیں۔وزیر دفاع نے کہا کہ افراد اور اداروں کے بارے میں اس قسم کی زبان استعمال کی جائے تو ردِعمل آنا ایک فطری بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ اقتدار میں بھی یہی حرکتیں کرتے رہے ہیں۔ ان کا لیڈر دوسروں کی تضحیک کے لیے دوپٹہ پہن کر نقلیں اتارتا تھا،وہ محمود خان اچکزئی صاحب کی نقل اتارا کرتا تھا جو آج انہی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ خواتین کے متعلق نامناسب زبان کا استعمال بھی انہی کی سابقہ سیاست کا حصہ رہا ہے۔خواجہ محمد آصف نے کہا کہ اگر ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس رویے پر کوئی ردِعمل دیا ہے، تو وہ نہایت مناسب اور متوازن ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے بے شمار شہیدوں کے جنازوں میں شرکت کی ہے، ان کے گھروں میں بھی گیا ہوں، وزیرِ اعظم کے ساتھ بھی لواحقین سے ملاقاتیں کی ہیں، لیکن مجھے کبھی پی ٹی آئی کا کوئی رہنما کسی شہید کے جنازے میں نظر نہیں آیا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی ایک صوبے میں ان کی حکومت ہے اور اسی صوبے میں سب سے زیادہ شہادتیں ہو رہی ہیں۔مسلح افواج کے جوان خواہ وہ پنجابی ہوں، پشتون، بلوچ، سندھی، گلگت یا بلتستان سےسب وطنِ عزیز کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں، مگر پی ٹی آئی کی قیادت ان قربانیوں کا اعتراف تک نہیں کرتی۔وفاقی وزیر دفاع نے کہا کہ پی ٹی آئی کو چاہیے کہ وہ شہداء کے جنازوں میں جائے، اپنے مجاہدین اور شہداءکے حق میں آواز اٹھائے، دہشتگردوں کا بیانیہ نہ اپنائے، طالبان کے حق میں نرمی نہ دکھائے اور ان کے ساتھ محبت اور رعایت کی باتیں نہ کرے۔ جب ایک جماعت دہشتگردوں کی حمایت اور اپنی فوج کے خلاف زبان استعمال کرے گی تو پھر ردِعمل پیدا ہونا ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان ہر معاملے پر بات کرتا ہے، تو پھر جنگ کے دوران اپنے مجاہدین، اپنے بچوں، اپنی ایئر فورس، نیوی اور بری افواج کے حق میں کیوں نہ بولا انہوں نے کہا کہ جنگ کے وقت بھی پی ٹی آئی کی قیادت اپنی ہی افواج کو نشانہ بناتی رہی، غلط زبان استعمال کرتی رہی اور شہیدوں کے متعلق بھی بے حسی اور توہین آمیز لہجہ اپنایا۔ جن لوگوں کی زبان اور کردار اس درجے تک گر چکا ہو کہ ایک شہید بھی محفوظ نہ رہے، ان سے شائستگی اور ذمہ داری کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کا کردار اس درجے تک گر چکا ہو، وہ کس بنیاد پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ فلاں بات نہیں ہونی چاہیئے ڈی جی آئی ایس پی آر کو بالکل کہنا چاہیئے۔ پی ٹی آئی کی شناخت پاکستان دشمنوں کی شناخت ہے۔ سیاست کرنی ہے تو کریں، احتجاج کرنا ہے تو کریں، مگر پاکستان کی سرزمین، غیرت اور حمیت کو للکارنے کی جسارت نہ کریں۔خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ماضی میں بھی ہم نے فوجی حکومتوں کے دوران اسٹیبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ، مگر جب شہدائ کے جنازوں کے موقع پر زبان استعمال کرنا، ان کے جنازوں سے گریز کرنا، یہ پاکستانیت نہیں بلکہ پاکستان دشمنی ہےاور ہم اس پر کبھی خاموش نہیں رہیں گے۔

Comments are closed.