این ایف سی اجلاس: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے قبائلی اضلاع کے حقوق کے لیے بھرپور موقف پیش کر دیا

24

عسکر انٹرنیشنل رپورٹ

پشاور، 4 دسمبر 2025: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ این ایف سی اجلاس میں خیبر پختونخوا خصوصاً ضم شدہ قبائلی اضلاع کے عوام کے حقوق کے لیے بھرپور انداز میں موقف پیش کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ 25ویں آئینی ترمیم کے بعد قبائلی اضلاع انتظامی طور پر 2018 سے خیبر پختونخوا کا حصہ ہیں، تاہم اب تک انہیں این ایف سی کے تحت ان کا مالی حق نہیں ملا، جو آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اجلاس میں تمام صوبائی نمائندگان، وفاقی وزیر اور وزیراعلیٰ سندھ کے سامنے یہ اصولی موقف رکھا گیا کہ آرٹیکل 160 کے تحت صوبے کو مکمل حصہ ملنا چاہیے، جس میں قبائلی اضلاع کا شیئر بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کو ان کا حق نہ دینا سراسر ناانصافی اور امتیازی سلوک ہے۔ اجلاس میں شریک تمام افراد نے خیبر پختونخوا کے موقف سے اصولی طور پر اتفاق کیا اور فیصلہ کیا گیا کہ بدھ تک ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو 8 جنوری تک اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ اگلا این ایف سی اجلاس جنوری کے وسط میں متوقع ہے، جس میں اس معاملے کو حتمی شکل دی جائے گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں، صوبے کا انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت، معیشت اور روزگار بری طرح متاثر ہوا، مگر وفاق نے صوبے کو اس کا جائز حق نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ دیگر صوبوں کو ان کا حصہ ملنا خوش آئند ہے، مگر خیبر پختونخوا کے ساتھ مسلسل ناانصافی افسوسناک ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 2013 سے 2021 تک پاکستان تحریک انصاف واحد جماعت تھی جس کے دور میں دو بار این ایف سی اجلاس ہوئے، جبکہ 2022 کے بعد یہ عمل تعطل کا شکار رہا۔ اب کمیٹی دوبارہ تشکیل دی گئی ہے اور پہلی میٹنگ ہو چکی ہے، جس سے امید کی جا رہی ہے کہ صوبے کو اس کا حق ملے گا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ قائد تحریک عمران خان ہمارے دلوں میں بستے ہیں اور ان کا نام ہم دن رات لیتے رہیں گے۔ ان پر پابندی اور تنہائی انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں دوہرا معیار نہیں چلنا چاہیے، قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے اور تمام پالیسیز آئین کے مطابق ہونی چاہئیں۔

Comments are closed.