خیبرپختونخوا میں افغان کیمپوں کی واپسی میں سست روی، وفاقی پالیسی پر عملدرآمد تاخیر کا شکار

24

عسکر انٹرنیشنل رپورٹ
03 دسمبر 2025

اسلام آباد — وفاقی حکومت نے غیر قانونی افغان باشندوں کی وطن واپسی کے لیے Illegal Foreigner Repatriation Plan (IFRP) متعارف کرایا، جسے قومی سلامتی، ریاستی وسائل کے تحفظ اور دہشت گردی کے انسداد کے لیے ناگزیر حکمت عملی قرار دیا گیا ہے۔

پلان کے تحت ملک بھر میں افغان مہاجر کیمپوں کی مرحلہ وار ڈی نوٹیفکیشن کی گئی، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 54 کیمپ غیر فعال قرار پائے۔ صوبائی سطح پر پنجاب اور بلوچستان نے وفاقی ہدایات پر فوری عملدرآمد کیا، جس کے تحت میانوالی کا افغان کیمپ مکمل طور پر خالی کرایا گیا، اور بلوچستان میں 88 ہزار سے زائد افغان شہریوں کی واپسی کا عمل جاری ہے۔

تاہم خیبرپختونخوا کی صورتحال تشویشناک ہے۔ صوبے کے 43 ڈی نوٹیفائیڈ کیمپوں میں صرف دو کیمپ مکمل طور پر خالی کیے گئے، جبکہ باقی فعال رہنے کے باعث صوبائی وسائل پر بوجھ اور قانون کی کمزور گرفت ظاہر ہو رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ان کیمپوں میں رہائش پذیر افغان باشندوں کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے مستند شواہد بھی موجود ہیں۔

وفاقی حکومت کی واضح ہدایات کے باوجود صوبائی حکومت IFRP پر مؤثر اور شفاف عملدرآمد میں ناکام ہے، جس کے فوری اور بھرپور نفاذ کی ضرورت ہے۔

Comments are closed.