انجمن اتحادِ معذوران خضدار نے 3 دسمبر عالمی یومِ معذوران منانے سے بائیکاٹ کا اعلان کردیا سرکاری بےحسی، عوامی نمائندوں کی عدم توجہی اور داخلی سازشوں نے معذور افراد کو شدید مایوسی سے دوچار کردیا

26

رپورٹ دانش مینگل نمائندہ خصوصی روزنامہ عسکر انٹرنیشنل خضدار

خضدار: انجمن اتحاد خضدار کے چیئرمین لال جان لانگو نے اس سال عالمی یومِ معذوران منانے سے باضابطہ بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ دنیا بھر میں 3 دسمبر عالمی یوم معذوران سال میں ایک مرتبہ معذور افراد کے مسائل، ضروریات اور مشکلات کو اُجاگر کرنے کے مقصد سے منایا جاتا ہے، مگر خضدار میں معذور افراد کی حالت زار کسی سے پوشیدہ نہیں ان کے بقول یہاں معذور افراد کو اس طرح نظر انداز کیا جاتا ہے جیسے ان کا معاشرے میں کوئی وجود ہی نہ ہو۔

لال جان لانگو نے کہا کہ خضدار میں پچھلے دو دہائیوں سے انجمن اتحاد اپنے محدود وسائل کے باوجود ہر سال یہ دن مناتی آئی ہے، مگر بدقسمتی سے سرکاری سرپرستی، عوامی نمائندوں کی توجہ اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون کا مکمل فقدان ہے ان کا کہنا تھا کہ دیگر شہروں میں یومِ معذوران کے موقع پر ڈپٹی کمشنرز، سرکاری اداروں کے افسران اور منتخب نمائندے معذور افراد کی حوصلہ افزائی کے لیے حصہ لیتے ہیں، لیکن خضدار میں سالہا سال سے ہم اپنے اخراجات خود برداشت کر کے یہ دن مناتے رہے ہیں، اور اس کے باوجود ہمیں مسلسل نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔

چیئرمین انجمن اتحاد نے دعویٰ کیا کہ معذور افراد کی فلاح کے لیے حکومت کی جانب سے ہر سال چالیس لاکھ روپے سے زائد کی رقم مختص کی جاتی ہے، لیکن تاحال انجمن کو نہ راشن کی مد میں کوئی امداد ملی، نہ ویل چیئر ، نہ مصنوعی آلات نہ کسی اور پروگرام کے تحت سہولت فراہم کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے منتخب ایم پی اے صاحب کا دورِ اقتدار دوسرے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، لیکن آج تک موصوف نہ ہمارے دفتر تشریف لائے اور نہ کبھی معذور افراد کے لیے کسی تعاون کا اعلان کیا۔

لال جان لانگو نے مزید بتایا کہ انجمن کو سبزی منڈی کے قریب 10 ایکڑ اراضی فراہم کی گئی تھی تاکہ معذور افراد کے لیے رہائشی پلاٹوں کی تقسیم ممکن بنائی جائے، مگر بدقسمتی سے چند شرپسند اور معذور ذہنیت کے حامل عناصر نے اندرونی سازش کے ذریعے معذور افراد کو دو گروپوں میں تقسیم کردیا، جس کے باعث پلاٹوں کی تقسیم کا معاملہ تعطل کا شکار ہوا ان کے مطابق یہی عناصر اب معذور افراد کو استعمال کرکے اپنے ذاتی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں جنکا حقیقی معذوروں سے کوئی تعلق نہیں،

چیئرمین نے سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری محکموں میں معذور کوٹہ پر بھی تندرست افراد کی بھرتیاں کی جارہی ہیں، جس سے معذور شہریوں کا حق کھلم کھلا پامال ہورہا ہے ہم اس قدر مایوس ہوچکے ہیں کہ ہماری کہیں بھی داد رسی نہیں ہوتی، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔

لال جان لانگو نے کہا کہ مسلسل بےتوجہی، سرکاری اداروں کے عدم تعاون اور داخلی انتشار کے باعث انجمن نے اس سال عالمی یومِ معذوران نہ منانے کا مشکل فیصلہ کیا ہے ان کے مطابق جب تک حکومتی نمائندے، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے معذور افراد کے مسائل کو حقیقی معنوں میں تسلیم کرکے ان کے حقوق کی بحالی کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کرتے، تب تک ایسی تقریبات محض رسمی کارروائی ثابت ہوں گی

انجمن اتحاد خضدار کے اس اعلان کے بعد شہر بھر میں معذور افراد کے مسائل اور سرکاری عدم توجہی ایک مرتبہ پھر موضوع بحث بن گئے ہیں، جبکہ سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت معذور افراد کے حقوق اور فلاح کے لیے جاری فنڈز کے شفاف استعمال کو یقینی بنائے اور معذور کوٹہ پر کی گئی مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرائی جائیں

Comments are closed.