حکومتِ گلگت بلتستان کا کسانوں کی فلاح کے لیے اہم اقدام ویٹرنری ایمبولینس سروس کا باقاعدہ آغاز

30

📌 عسکر انٹرنیشنل رپورٹ

گلگت:
گلگت بلتستان میں لائیو اسٹاک اور ڈیری سیکٹر کی بہتری کے لیے جدید ویٹرنری ایمبولینسز کی تقسیم اور لائیو اسٹاک اینڈ ڈیمو فارمز میں نئے منصوبوں کا افتتاح ایک شاندار تقریب میں منعقد ہوا۔ مہمانِ خصوصی ایڈیشنل چیف سیکریٹری ڈویلپمنٹ مشتاق احمد تھے، جبکہ سیکریٹری زراعت، لائیو اسٹاک و ڈیری ڈیولپمنٹ منصور عالم، سیکریٹری فنانس نجیب عالم، ڈپٹی چیف پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ عبدالجبار اور دیگر افسران بھی شریک تھے۔

ایڈیشنل چیف سیکریٹری مشتاق احمد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زراعت اور لائیو اسٹاک خطے کی معیشت کی مضبوط بنیاد ہیں۔ نوجوانوں کا صرف ملازمتوں پر انحصار بڑھتی ہوئی غربت کی ایک بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کے دیگر حصوں سے لائیو اسٹاک درآمد کرنے کے بجائے مقامی سطح پر پیداوار میں اضافہ کیا جائے اور کسانوں کو بااختیار بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ زراعت، لائیو اسٹاک اور فشریز کے شعبے کی حقیقی ترقی کے بغیر خطے میں خوشحالی ممکن نہیں۔

سیکریٹری زراعت و لائیو اسٹاک منصور عالم نے بتایا کہ گلگت بلتستان میں تقریباً 37 لاکھ جانور موجود ہیں، جن کی نگہداشت کے لیے ویٹرنری لیبارٹریز، ڈیری، شیپ، پولٹری فارمز اور ڈیمو فارمز قائم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ضلع میں ویٹرنری ایمبولینسز اور جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ جانوروں کے علاج و معالجے تک بروقت رسائی ممکن ہو سکے۔

ڈائریکٹر امورِ حیوانات ڈاکٹر سید اشتیاق حسین نے کہا کہ ویٹرنری ایمبولینسز سکردو، دیامر، شگر، استور، غذر، ہنزہ اور گلگت میں خدمات فراہم کریں گی، جس سے کمیونٹی کو براہِ راست فائدہ ہوگا۔ ان ایمبولینسز کے ذریعے جانوروں کا علاج اب کسانوں کے دروازے تک ممکن ہوگا۔ مزید بتایا کہ خواتین کو دودھ اور انڈے فروخت کرنے کے ذریعے مالی خودمختاری بھی دی جا رہی ہے۔

تقریب کے شرکاء نے گائے کے فارم کا معائنہ بھی کیا جہاں ڈاکٹر اشتیاق حسین نے تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ میں بورنگ کے ذریعے پانی کے منصوبے کا بھی افتتاح کیا گیا۔

آخر میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری، سیکریٹری فنانس اور سیکریٹری زراعت و امورِ حیوانات نے مختلف اضلاع کے لیے مختص ویٹرنری ایمبولینسز کی چابیاں تقسیم کیں۔

Comments are closed.