بلوچستان وطن کی محبت میں سب سے آگے سہولیات میں سب سے پیچھے آخر کیوں 

0 179

تحریر: میر اسلم رند 

پاکستان کی ترقی کا سفر اگر کاغذوں پر دیکھا جائے تو ایک روشن مستقبل کا نقشہ ابھرتا ہے بلٹ ٹرین جدید موٹر ویز برق رفتاری سے پھیلتا انفراسٹرکچر اعلیٰ معیار کی یونیورسٹیاں اور میگا پراجیکٹس لیکن جب حقیقت کی آنکھ سے دیکھا جائے تو یہ ترقی دو صوبوں تک محدود دکھائی دیتی ہے پنجاب اور سندھ میں ترقی کا جال بچھایا جا رہا ہے ہوائی و زمینی سفر کے سہل ترین راستے موجود ہیں بڑے منصوبے انہی صوبوں میں عملی شکل اختیار کر رہے ہیں مگر بلوچستان وہ آج بھی محرومیوں کے اندھیروں میں کھڑا اپنی باری کا انتظار کر رہا ہے

کراچی سے اسلام آباد تک بلٹ ٹرین چلانے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ اسلام آباد سے لاہور تک بلٹ ٹرین پر کام جاری ہے مری موٹر وے مکمل ہو چکا ہے پنجاب میں نئے منصوبے روزانہ کی بنیاد پر شروع ہو رہے ہیں پاکستان کی بہترین یونیورسٹیاں بھی انہی دو صوبوں میں کھڑی ہو رہی ہیں یہ سب خوش آئند ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ملک کے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ وسائل رکھنے والے صوبے بلوچستان کا ذکر ان منصوبوں میں کہاں ہے

لاہور سے کراچی تک ہوائی سفر 18 ہزار روپے میں ہو جاتا ہے جبکہ کوئٹہ کراچی لاہور یا اسلام آباد کا ٹکٹ 70 ہزار سے بھی اوپر جا پہنچتا ہے کیا یہ ایک ہی ملک کے اندر دو الگ الگ معاشی دنیا نہیں کیا ب

لوچستان کے عوام کا حق کم ہے کیا انہیں بھی پاکستان کا پرچم اٹھانے سرحدوں پر جانیں قربان کرنے اور ملکی سلامتی میں کردار ادا کرنے پر فخر نہیں

لیکن اس کے بدلے میں بلوچستان کو کیا ملا

سڑکیں بند ٹرینیں بند انٹرنیٹ بند گیس بند بجلی صرف چند گھنٹے

نیشنل ہائی ویز کھنڈرات کا منظر پیش کرتے ہیں پورا صوبہ ترقی کے نقشے میں کہیں دکھائی ہی نہیں دیتا

سی پیک کو کہا گیا کہ یہ بلوچستان اور پاکستان دونوں کی تقدیر بدل دے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سی پیک کی روشنی کہیں اور بکھر رہی ہے، اندھیرے بلوچستان کے حصے میں آ رہے ہیں ریکوڈک جسے پاکستان کی معاشی آزادی کا دروازہ قرار دیا جاتا ہے وہ بھی بلوچستان کے عوام کے لیے اب تک کچھ نہیں بدل سکا جن زمینوں کے نیچے سونا تیل اور معدنی دولت چھپی ہوئی ہے ان علاقوں کے لوگ آج بھی تعلیم، صحت، صاف پانی سڑکوں بجلی اور گیس کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں دنیا کا شاید کوئی خطہ ایسا نہیں جہاں اتنے وسائل ہوں مگر وہاں کے باسی یوں محرومیوں کی زنجیروں میں جکڑے ہوں اور اس سب کے باوجود

بلوچستان کے عوام کسی بھی صوبے سے زیادہ محبِ وطن ہیں وہ آج بھی پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں وہ آج بھی سبز ہلالی پرچم کو سب سے اونچا سمجھتے ہیں ان کی وفاداری پر کبھی شک نہیں کیا جا سکتا

لیکن آخر کب تک

بلوچستان کی فریاد اب سسکیاں بن چکی ہیں لوگ تھک چکے ہیں

نیشنل میڈیا تب تک بلوچستان کی طرف نہیں دیکھتا جب تک 20 لاشیں سڑکوں پر نہ گری ہوں آخر کیوں کیا ہمارے دکھ کم ہیں کیا ہمارے مسائل کم ہیں کیا ہماری سانسیں سستی اور ہماری زندگی کی قیمت کم ہے آج بلوچستان آپ سے مخاطب ہے

جناب فیلڈ مارشل پاکستان آپ آج دفاعی امور کے سربراہ ہیں ہماری نظریں آپ پر ہیں ہمارے صوبے کے حکمران ناکام ہو چکے ہیں ہماری آواز کوئی نہیں سنتاہم اور ہمارے بچے روز دہشت گردی کی زد میں ہیں ہمارے شہر ہمارے بازار، ہمارے ادارے عدم تحفظ کا شکار ہیں یہ وقت ہے کہ بلوچستان کی داد رسی کی جائے یہ وقت ہے کہ ترقی کے فیصلوں میں ہمیں بھی شامل کیا جائے یہ وقت ہے کہ وہ محرومیاں ختم کی جائیں جو نسل در نسل ہمارے حصے میں آتی رہی ہیں ہم ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے باوجود سب سے پیچھے کیوں ہیں ہماری حب الوطنی کے بدلے ہمیں محرومی کیوں ملتی ہے ہم فریاد کرتے کرتے تھک گئے ہیں اب آخر کس کے سامنے روئیں بلوچستان کی فریاد کمزور نہیں یہ ایک قوم کی چیخ ہے جو اپنے حقوق مانگ رہے ہیں

جناب جس صوبے کے دل میں محرومی ہو اس کے ہاتھ کمزور ہو جاتے ہیں لیکن بلوچستان اب بھی پاکستان کا مضبوط ترین ہاتھ ہے بس اسے تھامنے والا کوئی ہونا چاہیے وقت ہے کہ ریاست اس ہاتھ کو تھام لے اس دل کو تسلی دے

Leave A Reply

Your email address will not be published.