پاکستان کی معیشت نے 2025ءکے تباہ کن سیلاب کے باوجود غیر معمولی استحکام کا مظاہرہ کیا ہے،

17

 اسلام آباد۔14نومبر :وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت نے 2025ئ کے تباہ کن سیلاب کے باوجود غیر معمولی استحکام کا مظاہرہ کیا ہے،حکومت کی بروقت کارروائیوں، این ڈی ایم اے کی قیادت میں انخلائ اور مربوط ریلیف آپریشنز، اور پیشگی ہنگامی منصوبہ بندی نے اہم شعبوں کا تسلسل یقینی بنایا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو وزارت منصوبہ بندی میں منعقدہ ماہانہ ترقیاتی رپورٹ اور مہینہ کے بہترین افسر کے انتخاب کی تقریب سے خطاب میں کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت عوام کے روزگار کے تحفظ، بحالی اور پائیدار معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہے، مالی سال کے ابتدائی دو ماہ میں مہنگائی میں مسلسل کمی رہی ، مہنگائی کی شرح جولائی میں 4.1 فیصد اور اگست میں 3 فیصد رہی جو قیمتوں میں ابتدائی استحکام کی عکاسی ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ سیلاب سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے اس رجحان کو عارضی طور پر متاثر کیا جس کے نتیجے میں ستمبر میں مہنگائی 5.6 فیصد اور اکتوبر میں 6.2 فیصد تک پہنچ گئی۔ انہوں نے کہا کہ جولائی تا اکتوبر اوسط مہنگائی 4.7 فیصد رہی جو گزشتہ سال اسی عرصے کے 8.7 فیصد کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ دو سال کی مسلسل کمی کے بعد لارج سکیل مینوفیکچرنگ میں بحالی دیکھی گئی ہے، اس بہتری نے خام مال اور ایندھن کی طلب میں اضافہ کیا جو صنعتی سرگرمیوں کو نئی رفتار دے رہا ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ جولائی تا اکتوبر کے دوران ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں مستحکم اضافہ جاری رہا جو گزشتہ سال کے 3.4 ٹریلین روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 3.8 ٹریلین روپے تک پہنچ گئیں۔ یہ کارکردگی 11.4 فیصد کی نمایاں شرح نمو کی عکاسی کرتی ہے، اسی طرح مالی سال کے جولائی تا اگست کے دوران ملکی برآمدات میں 0.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو مثبت رجحان کی عکاسی کرتا ہے تاہم حالیہ سیلاب کے باعث پیدا ہونے والی سپلائی رکاوٹوں نے برآمدی شعبے کو متاثر کیا جس کے نتیجے میں جولائی تا اکتوبر برآمدات میں 4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ جولائی تا ستمبر کے ایکسپورٹ آف سروسز میں 14.7 فیصد اضافہ ہوا جو 2.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ آئی ٹی برآمدات میں 20.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو 1.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں،دوسری جانب اسی مدت کے دوران درآمدات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کل درآمدات 23 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جو 15.1 فیصد اضافے کی عکاسی کرتی ہیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ جولائی تا اکتوبر مالی سال 2026ئ کے دوران ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ سال کے 11.9 ارب ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 13.0 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔یہ رجحان بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے حکومت کی اقتصادی حکمت عملی اور بہتر ہوتے معاشی استحکام پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی جانب واضح اشارہ ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مالی سال کے ابتدائی چار ماہ جولائی تا اکتوبر کے دوران پی ایس ڈی پی کے تحت 33.4 ارب روپے کی منظوری جبکہ 134.2 ارب روپے کے اجرائ کی اجازت دی گئی جو ایک کھرب روپے کے ترقیاتی پروگرام کے تحت منصوبوں کے تسلسل اور موثر عملدرآمد کی مستحکم پیش رفت کو ظاہر کرتی ہے، سیلاب سے متعلق رکاوٹوں کے باوجود پی ایس ڈی پی کے فنڈز کے استعمال میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت منصوبہ بندی سے ترقیاتی عمل ملک کے چاروں صوبوں میں متوازن طریقے سے چلا رہی ہے۔ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ اور اوالیوشن سے ان منصوبوں میں شفافیت لانے میں مدد ملی ہے، ترقیاتی شعبے میں وزارت نے اکتوبر 2025ئ میں سی ڈی ڈبلیو پی کے ذریعے 12 منصوبوں اور 5 کنسپٹ کلیئرنس کی منظوری دی ہے جبکہ 6 بڑے منصوبے ایکنک کو بھیجے گئے ہیں جو حکومتی ترقیاتی اقدامات کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ منظور شدہ منصوبے ترقیاتی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث مختلف شعبوں میں تقریباً 56,184 براہِ راست اور 39,326 بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا کریں گے، جولائی تا ستمبر 2025ئ کے دوران ترقیاتی منصوبوں میں لاگت کی کفایت شعاری کے نتیجے میں 2.2 ارب روپے کی بچت ہوئی جو منصوبہ بندی میں محتاط رویے اور منصوبوں کی بہتر کارکردگی کو کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 2013ئ سے 2018ئ تک مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں سی پیک نے پاکستان میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی۔پی ٹی آئی نے اپنے دور حکومت میں سی پیک کو سکینڈلائز کیا جس کی وجہ سے اربوں روپے کی سرمایہ کاری دوسرے ممالک چلی گئی۔ احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک فیز ٹو کے تحت ملک میں ترقی کی نئی راہیں کھولیں گے، پاکستان کی ترقی انسانی وسائل پر منحصر ہے، ہم دنیا بھر سے بہترین ہنر مند اور ہزاروں پی ایچ ڈی پاکستان لائیں گے تاکہ معیشت کو مضبوط کریں

Comments are closed.