وزیر اعظم عمران خان کے علاقائی اور عالمی اقدامات قابل تعریف ہیں
اسلام آباد: چین کے سفیر یاو جنگ نے جمعرات کے روز کورونا وائرس وبا کے باعث لاک ڈان کی صورتحال کی وجہ سے کیمپوں میں پھنسے ہوئے افغان مہاجرین کے لئے 1500 فوڈ پیکس وزیرمملکت برائے سیفران اور انسداد منشیات شہریار آفریدی کے حوالے کیے اور کہاکہ وزیر اعظم عمران خان کے علاقائی اور عالمی اقدامات قابل تعریف ہیں جبکہ وزیرسیفران شہریار آفرید ی نے کہاکہ چین ، پاکستان ایک ساتھ جیتے اور سانس لیتے ہیں۔یاد رہے کہ چین نے یہ عطیہ شہریار آفریدی کی درخواست پر کیا جنھوں نے اقوام متحدہ اور وفاقی دارالحکومت میں مقیم سفارتی مشنز کو خط لکھ کرترقی یافتہ ممالک کی توجہ لاک ڈان کی صورتحال میں پھنسے ہوئے افغان مہاجرین کی امداد کی طرف مبذول کی ہے۔چینی سفیر یا ئوجِنگ نے اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اٹھائے گئے علاقائی اور عالمی اقدامات کی تعریف کی اور کہا کہ افغان مہاجرین کی مدد کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان گذشتہ چار دہائیوں کے دوران نہ صرف لاکھوں افغانوں کی دل کھول کر میزبانی کر رہا ہے بلکہ وہ جنگ سے متاثرہ افغانستان میں امن عمل میں بھی کلیدی کردار ادا کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قائدانہ کردار کی وجہ سے افغان امن عمل آگے بڑھ رہا ہے جو افغان قوم کے مستقبل کی تشکیل میں معاون ہوگا۔انہوں نے کہا کہ چین کی جانب سے یہ مدد محض آغاز ہے۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے مرض کے باوجود شہریار آفریدی قومی اہمیت کے امور میں سرگرمی سے مصروف عمل ہیں جو قابل تعریف ہے۔ انہوں نے کہا کہ چار دہائیوں کے دوران افغان مہاجرین کے لئے پاکستان کی فیاضی سے امداد کو جتنا خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افغان طالبان اور امریکہ کے مابین افغان امن عمل میں خدمات قابل تعریف ہیں جس سیپورے خطے میں امن قائم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ امن مذاکرات کی کامیابی سے خطے میں امن اور ترقی کے فروغ میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ چین کو یقین ہے کہ کورونا وائرس ایک عارضی چیلنج ہے اور پاکستان جلد ہی اس پر قابو پا لے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین جو بھی مدد ممکن ہوئی ہم اس کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر عارف علوی کے حالیہ دورہ چین سیپاک چین دوستی کا ایک نیا باب رقم ہواہے۔ انہوں نے کہا کہ فروری میں جب چین پریشانی کا شکار تھا تو پاکستان نے ہمارے لئے مدد بھیجی۔ یاو جنگ نے کہا کہ چین اور پاکستان علاقائی اور عالمی چیلنجوں کے ذمہ دار شراکت دار کی حیثیت سے کھڑے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان اور پاکستانی اداروں نے وبائی مرض سے نمٹنے کے لئے ایک ماڈل اپنایا ہے۔سیفران کے وزیر شہریار آفریدی نے کہا کہ چین ہمیشہ ہی انسانیت سے دوچار انسانیت کی مدد کرتا رہا ہے۔انہون نے کہا کہ چین کی ڈبلیو ایچ او اور دیگر اہم عالمی فورمز کی امداد ترقی یافتہ ممالک کے لئے نمونہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین ، پاکستان دوستی اچھے پڑوس اور دوستی کی کلاسیک مثال بن گئی ہے۔ چین نے جس طرح CoVID-19 کا مقابلہ کیا وہ پوری دنیا کے لئے مثالی ہے۔آفریدی نے کہا کہ چین نے کرونا وائرس کو شکست دینے کے بعد اقوام عالم کو اس بیماری سے بچانے کے لئے قائدانہ کردار ادا کرنا شروع کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین مل کر چلیں گے اور دنیا کو بتائیں گے کہ دوستی کا کیا مطلب ہے۔ پاکستان اور چین مل کر جئیں گے اور اکھٹے سانس لیتے ہیں۔ ہمارا یہ رشتہ دنیا میں انمول ہے۔ پاکستان اور اس کے عوام کے بارے میں چینی قیادت کی تشویش نے ہمیشہ میرے دل کو چھو لیا ہے۔ وزیر سیفران نے کہا کہ جس طرح چین نے آزمائشی اوقات میں پاکستانی طلبا کی میزبانی کی اس کے لئے پاکستان چین کا مقروض ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان گذشتہ 40 سالوں سے اپنی مالی مشکلات کے باوجود افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاجرین کی امداد کا واحد مقصد انسانیت ہے۔ ہمارے پاس تقریبا 2.28 لاکھ افغان باشندے ہیں جن میں سے 32 فیصد پاکستان بھر میں موجود 54 افغان کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔وزیر نے بتایا کہ ان کیمپوں میں سے 82 فیصد روزانہ اجرت والے ملازم ہیں جو لاک ڈان میں پھنسے ہیں اور بقا کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان اپنی معاشی مجبوریوں کے باوجود ان کی مدد کرنے کی کوشش کر رہا ہے مگر ایسے میں خوشحال دنیا کو پھنسے ہوئے افغانوں کی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔