نوابزادہ میر لشکری خان رئیسانی کا 27ویں آئینی ترمیم پر شدید ردعمل: کہا—یہ عوام اور جمہوریت کے خلاف آئینی مارشل لاء ہے
کوئٹہ: سینئر سیاستدان اور سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کرتے ہوئے اسے اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کی اتحادی جماعتوں کے درمیان آئینی بندر بانٹ قرار دیا۔ ان کے مطابق اس ترمیم کے ذریعے ملک میں ایک دائمی آئینی مارشل لاء نافذ کیا جا رہا ہے تاکہ بظاہر نام نہاد جمہوری حکومتوں میں اسٹیبلشمنٹ خطے میں سامراجی قوتوں کے مفادات کا تحفظ کرے۔
نوابزادہ رئیسانی نے کہا کہ عوام اور سیاسی کارکنان کو عوامی نمائندگی کا حق نہ رکھنے والی جعلی سیاسی جماعتوں سے فاصلے اختیار کرنا ہوں گے تاکہ انہیں سیاسی طور پر تنہا کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “چور دروازے سے تشکیل دی گئی پارلیمنٹ کی کوئی اخلاقی حیثیت نہیں، اور لگتا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ بیرون ملک سے تیار کیا گیا، جو ملک اور عوام کے مفاد میں نہیں بلکہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بندر بانٹ ہے۔”
انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ برسراقتدار جماعتیں بھی مستقبل میں اس غیر جمہوری ترمیم کی زد میں آئیں گی، جیسا کہ سابقہ حکومتیں آئیں۔ نوابزادہ رئیسانی نے سیاسی کارکنوں اور عوام سے کہا کہ وہ ایسی سیاسی جماعتوں کے خلاف بھرپور آواز بلند کریں جو عوامی نمائندگی سے دستبردار ہو کر اسٹیبلشمنٹ کی سہولت کار بنی ہیں۔
انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں اپوزیشن جماعتیں بھی عملی طور پر نوراکشتی کا شکار ہیں۔ خصوصاً بلوچستان میں سینیٹ کے انتخابات سے ایک رات قبل بالادست طبقہ نے پارٹی ٹکٹ پر اپنی مرضی کے نمائندے منتخب کرائے، جنہوں نے بعد میں 27ویں آئینی ترمیم میں ووٹ دیا۔ رئیسانی کے مطابق، اپوزیشن جماعتوں کی یہ سیاسی اداکاری اس ترمیم کو کامیاب بنانے میں حکومت کو سہولت فراہم کرنے کے مترادف ہے، جبکہ حقیقی اپوزیشن کو چاہیے تھا کہ وہ ترمیم کی مخالفت کرے اور جمہوریت کے حق میں کردار ادا کرے۔
Comments are closed.