: افغان طالبان دہشت گرد گروہوں کو پناہ دے کر امن کی کوششیں ناکام بنا رہے ہیں.پاکستان

19

عسکر انٹرنیشنل رپورٹ
اسلام آباد، 9 نومبر 2025:

پاکستان نے افغان طالبان حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے کام کرنے والی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کرنے میں ناکام ہو کر ثالثی کے ذریعے ہونے والے امن مذاکرات کو کمزور کر رہی ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ طالبان اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کے لیے عارضی جنگ بندی کو طول دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ پاکستان ترکیہ اور قطر کی مخلصانہ ثالثی کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، تاہم سب سے بڑی تشویش افغان سرزمین سے اٹھنے والا دہشت گردی کا مستقل خطرہ ہے، جسے سب سے پہلے حل کرنا ضروری ہے۔

پاکستان کے مطابق مذاکرات کے دوران طالبان نے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے عسکریت پسندوں کے خلاف کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا اور صرف جنگ بندی میں توسیع پر توجہ مرکوز کی۔ اسلام آباد کا دعویٰ ہے کہ طالبان دہشت گردوں کو مہاجرین کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جسے ترجمان نے “دہشت گردوں کو مہاجرین کے طور پر پیش کرنے کی چال” قرار دیا۔

ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان کسی بھی شہری کو تورخم یا چمن بارڈر کراسنگ کے ذریعے قبول کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ وہ اسلحہ اور سازوسامان سے لیس نہ ہوں۔

اہلکار نے 2015 میں آپریشن ضربِ عضب کے بعد ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے افغانستان فرار ہونے اور وہاں طالبان کی مدد کا حوالہ دیا۔ موجودہ کابل حکومت مبینہ طور پر ان دہشت گردوں کو پناہ دے رہی ہے اور پاکستان میں حملے کے لیے تربیتی کیمپ قائم کر چکی ہے۔

پاکستان کی جانب سے بار بار دہشت گردوں کی حوالگی کی درخواست مسترد کی گئی، جسے اسلام آباد نے اب نیت کے مسئلے کے طور پر دیکھا ہے۔ طالبان کے اقتدار کے بعد پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہوا، تاہم اسلام آباد نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مثبت روابط کی کوششیں جاری رکھیں۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی فوجی کارروائیاں اپنی سرزمین اور عوام کے تحفظ کے لیے عزم اور ارادے کا مظہر ہیں۔ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو “ریاست کے کھلے دشمن” قرار دیا گیا اور انہیں پناہ دینے یا مالی معاونت فراہم کرنے والی کوئی بھی تنظیم پاکستان کی دوست نہیں سمجھی جائے گی۔

اسلام آباد نے واضح کیا کہ طالبان حکومت سے بات چیت جاری رکھنے کے باوجود کسی بھی دہشت گرد گروہ سے مذاکرات نہیں کرے گا۔ ترجمان نے طالبان کے اندرونی اختلافات اور غیر ملکی مالی معاونت سے مستفید ہونے والی بعض سخت گیر لابی کی موجودگی کی جانب بھی اشارہ کیا، جس کا مقصد کشیدگی پیدا کرنا ہے۔

آخر میں ترجمان نے افغان طالبان کی جانب سے پاکستان میں پشتون قوم پرستی کو ہوا دینے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پشتون پاکستانی معاشرے کا متحرک اور مربوط حصہ ہیں۔ اسلام آباد نے طالبان کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی حکومت میں آبادی کے مختلف طبقات کی شمولیت کو یقینی بنانے پر توجہ دیں۔

Comments are closed.